اسلام آباد: پاکستان کی ٹائر صنعت نے مالی سال 2026-27 کے دوران برآمدات 15 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جو گزشتہ مالی سال کی 11.6 کروڑ ڈالر برآمدات کے مقابلے میں تقریباً 29 فیصد زیادہ ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق وزارت تجارت نے صنعت کو بیرونی منڈیوں تک رسائی میں درپیش مسائل حل کرنے اور برآمدی توسیع میں سہولت دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

وزیر تجارت جام کمال خان کی زیر صدارت حالیہ اجلاس میں پاکستانی ٹائروں کی ترکی کی منڈی تک رسائی سے متعلق معاملات زیر بحث آئے۔ حکام نے بتایا کہ ٹائروں کی بعض اقسام کو پاکستان اور ترکی کے ترجیحی تجارتی معاہدے کے تحت پہلے ہی رعایت حاصل ہے۔ برآمد کنندگان سے کہا گیا ہے کہ وہ متعلقہ مصنوعات اور ہارمونائزڈ سسٹم کوڈز کی تفصیلات فراہم کریں تاکہ باقی مسائل ترک حکام کے ساتھ اٹھائے جا سکیں۔

اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی ٹائر برآمدات مالی سال 2021-22 میں 3.5 کروڑ ڈالر تھیں، جو مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر 11.6 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ صنعت کی برآمدات میں سروس لانگ مارچ کا نمایاں حصہ ہے۔ کمپنی نے گزشتہ مالی سال 6.7 کروڑ ڈالر کی برآمدات کیں، جو مجموعی صنعتی برآمدات کا تقریباً 58 فیصد بنتا ہے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے اس نے 10 کروڑ ڈالر کا ہدف رکھا ہے۔

ستمبر 2026 میں سروس لانگ مارچ کی برآمدات 95 لاکھ ڈالر رہیں، جبکہ ایک سال قبل اسی مہینے میں یہ 69 لاکھ ڈالر تھیں۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی کا ستمبر میں شعبے کی مجموعی 1.51 کروڑ ڈالر برآمدات میں تقریباً 63 فیصد حصہ تھا۔ صنعت امریکا اور برازیل سمیت ایسی منڈیوں میں بھی مصنوعات بھیج رہی ہے جہاں معیار، لاگت اور سپلائی کی شرائط سخت ہوتی ہیں۔

مسافر گاڑیوں کے ریڈیل ٹائروں کے شعبے میں بھی برآمدی سرگرمی بڑھ رہی ہے۔ آرمسٹرانگ نے اگست 2026 میں برآمدی فروخت شروع کی اور امریکا سمیت منڈیوں کو سپلائی کر رہا ہے، جبکہ سروس لانگ مارچ 2028 میں اس شعبے کی برآمدات شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

15 کروڑ ڈالر کا ہدف حاصل ہونے کی صورت میں ٹائر سازی پاکستان کے صنعتی برآمدی ڈھانچے میں نسبتاً بڑا حصہ ڈال سکتی ہے۔ تاہم ہدف کی تکمیل مارکیٹ رسائی، پیداواری لاگت، بین الاقوامی طلب اور برآمدی مسابقت جیسے عوامل پر منحصر رہے گی۔ وزارت تجارت کی جانب سے ترکی کے ساتھ مخصوص ٹیرف اور مصنوعات سے متعلق مسائل اٹھانے کا عمل اس کوشش کا ایک اہم حصہ ہوگا۔