اسلام آباد: پاکستان اور برطانیہ نے سکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری اور مائیگریشن سمیت باہمی دلچسپی کے اہم شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق برطانیہ کے وزیر مملکت برائے سکیورٹی ڈین جاروس نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کے ساتھ علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان موجود تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا اور سکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری اور مائیگریشن کے شعبوں میں روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ملاقات میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان قائم ادارہ جاتی رابطوں اور مذاکراتی فریم ورک کو استعمال کرتے ہوئے عملی تعاون کو آگے بڑھایا جائے۔
وزارت خارجہ نے بتایا کہ اسحاق ڈار اور ڈین جاروس نے R4 + E4 فریم ورک کے تحت آئندہ اجلاسوں اور رابطوں پر بھی بات کی۔ یہ رابطہ دونوں ملکوں کے درمیان سلامتی، اقتصادی تعاون اور دیگر مشترکہ ترجیحات پر منظم مشاورت کا حصہ ہے۔ پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات میں تجارت، پاکستانی نژاد برطانوی برادری، تعلیم، انسداد دہشت گردی اور قانونی مائیگریشن جیسے موضوعات طویل عرصے سے نمایاں رہے ہیں۔
ملاقات کے دوران علاقائی اور عالمی پیش رفت بھی زیر بحث آئی۔ سرکاری تفصیلات میں تمام موضوعات کی الگ الگ وضاحت نہیں کی گئی، تاہم دونوں جانب سے مسلسل سفارتی رابطے اور باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔
برطانیہ پاکستان کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان وسیع عوامی روابط بھی موجود ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں حکومتیں غیر قانونی مائیگریشن، منظم جرائم، سکیورٹی تعاون اور سرمایہ کاری کے موضوعات پر بھی رابطے بڑھاتی رہی ہیں۔ اسلام آباد میں ہونے والی تازہ ملاقات اسی وسیع دوطرفہ ایجنڈے کے تسلسل کے طور پر سامنے آئی ہے، جس میں فریقین نے تعلقات کو عملی اور ادارہ جاتی سطح پر مزید آگے لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
