اسلام آباد: پاکستان اور برطانیہ نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور برطانوی وزیر مملکت برائے خارجہ امور سٹیفن ڈوٹی کی اسلام آباد میں ملاقات کے دوران ہوئی۔

وزارت داخلہ سے متعلق سرکاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاک برطانیہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات ہوئی، خصوصاً غیر قانونی امیگریشن، انسداد منشیات اور انسداد دہشت گردی پر توجہ دی گئی۔ دونوں جانب سے جعلی اسٹوڈنٹ ویزوں کے ذریعے برطانیہ جانے کے رجحان کی روک تھام کے لیے مشترکہ اور سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

محسن نقوی نے کہا کہ جعلی طالب علم ویزوں پر بیرون ملک جانے کے معاملات میں سخت جانچ پڑتال ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس نے برطانیہ اسمگل کی جانے والی 55 میٹرک ٹن منشیات ضبط کی ہیں۔ یہ مقدار پاکستانی حکام کے سرکاری بیان میں دی گئی ہے۔ برطانوی وزیر سٹیفن ڈوٹی نے پاکستان میں آن لائن فراڈ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیوں کو سراہا۔

ملاقات میں مشترکہ ورکنگ گروپ کے 90 روزہ دورانیے میں ہونے والی پیش رفت اور آئندہ لائحہ عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ افغانستان کے ساتھ سرحدی صورتحال اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تبادلہ خیال ہوا، جبکہ دونوں فریقوں نے علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا اصولی اتفاق ہوا ہے؛ سرکاری بیان میں دستخط کی حتمی تاریخ، مکمل متن یا قانونی نفاذ کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو تعاون کے آئندہ فریم ورک پر اتفاق سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ پہلے ہی نافذ شدہ نئے قانونی نظام کے طور پر۔ ملاقات میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اور دونوں ممالک کے دیگر حکام بھی شریک تھے۔