پاکستان نے اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ڈیجیٹل اثاثوں، بلاک چین اور نئی مالیاتی ٹیکنالوجیز کے لیے عالمی سطح پر مربوط ریگولیٹری اور ادارہ جاتی فریم ورک تیار کرنے پر زور دیا ہے۔ وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ سیشن سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل فنانس کی تیز رفتار ترقی کو محض تکنیکی رجحان سمجھنے کے بجائے اسے عالمی مالیاتی نظام کی تشکیل نو کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔

یہ سیشن پاکستان کے مستقل مشن نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام، اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس اور سیکریٹری جنرل کے ٹیکنالوجی سے متعلق نمائندے کے دفتر کے اشتراک سے منعقد کیا۔ اجلاس میں رکن ممالک، اقوام متحدہ کے اداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ پاکستانی نمائندے نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثے، ٹوکنائزیشن اور ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی ترقی پذیر معیشتوں کو مالیاتی شمولیت، ادائیگیوں کی کارکردگی اور سرمایہ تک رسائی بہتر بنانے کا موقع فراہم کر سکتی ہیں۔

بلال بن ثاقب نے عالمی مالیاتی نظام سے باہر موجود افراد، مہنگی ترسیلات زر اور سست تصفیہ نظام جیسے مسائل کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل شناخت اور قابل تصدیق مالیاتی ریکارڈ چھوٹے کاروباروں، کسانوں اور خواتین کاروباریوں کو روایتی ضمانتوں کے بغیر اپنی معاشی سرگرمی ثابت کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹوکنائزیشن انفراسٹرکچر بانڈز، قابل تجدید توانائی منصوبوں اور دیگر اثاثوں میں سرمایہ کاری کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے سرمایہ کے نئے ذرائع پیدا کر سکتی ہے۔

پاکستانی موقف میں اس ٹیکنالوجی کے خطرات کو بھی نمایاں کیا گیا۔ بلال بن ثاقب نے ریٹیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں، معاشی طاقت کے ارتکاز اور مختلف ملکوں کے درمیان ریگولیٹری صلاحیت کے فرق کو اہم چیلنجز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت تاخیر سے آنے والی ضابطہ سازی صارفین اور منڈیوں کو خطرات سے دوچار کر سکتی ہے، جبکہ محض خوف پر مبنی سخت پابندیاں سرگرمی کو کم شفاف ذرائع کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔

پاکستان نے تجویز دی کہ ضابطہ سازی کو ٹیکنالوجی کی رفتار کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے اور اس کا مقصد منڈیوں کو بند کرنا نہیں بلکہ ذمہ دارانہ انداز میں تعمیر کرنا ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ میں یہ موقف پاکستان کی اس وسیع تر پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت ملک ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے باقاعدہ ریگولیٹری ڈھانچہ قائم کرنے، عالمی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانے اور نئی مالیاتی ٹیکنالوجی کو مالی شمولیت اور ترقی کے اہداف سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔