اسلام آباد/نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں ڈیجیٹل اثاثوں اور ابھرتی ہوئی مالیاتی ٹیکنالوجی کے لیے مشترکہ عالمی ریگولیٹری اور ادارہ جاتی فریم ورک قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 13 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے اقوام متحدہ کی بریفنگ سے ورچوئل خطاب میں کہا کہ ڈیجیٹل فنانس تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے اور اس کے ساتھ مؤثر حکمرانی اور بین الاقوامی تعاون بھی ضروری ہے۔

یہ بریفنگ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں پاکستان کے مستقل مشن نے یو این ڈی پی، یو این سی ٹی اے ڈی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ایلچی برائے ٹیکنالوجی کے دفتر کے تعاون سے منعقد کی۔ اجلاس کا موضوع پائیدار ترقی کے لیے ڈیجیٹل اثاثوں اور بلاک چین کے استعمال اور جدت کے ذریعے ڈیجیٹل فنانس کو آگے بڑھانا تھا۔ اس میں رکن ممالک، اقوام متحدہ کے اداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔

بلال بن ثاقب کے مطابق ٹوکنائزیشن، ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل شناخت جیسے اوزار مالی شمولیت بڑھانے، ادائیگیوں اور ترسیلات کی لاگت کم کرنے اور چھوٹے کاروباروں، کسانوں اور خواتین کاروباریوں کے لیے مالی ریکارڈ کو زیادہ قابلِ استعمال بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انفرااسٹرکچر بانڈز یا قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں جیسے اثاثوں کو ٹوکنائز کر کے سرمایہ اکٹھا کرنے کے نئے راستے پیدا کیے جا سکتے ہیں، جبکہ سرکاری اخراجات اور سپلائی چین میں شفافیت بڑھانے کے امکانات بھی موجود ہیں۔

پاکستانی نمائندے نے تاہم خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی کو خودکار حل نہیں سمجھنا چاہیے۔ ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ، غیر قانونی مالی سرگرمیوں، طاقت کے ارتکاز اور مختلف ممالک کی ریگولیٹری صلاحیت میں فرق جیسے خطرات کے لیے بروقت قواعد درکار ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ ضابطہ سازی ایسی ہونی چاہیے جو جدت کو محفوظ اور شفاف مارکیٹ میں جگہ دے، نہ کہ اسے غیر رسمی یا کم نگرانی والے ماحول کی طرف دھکیل دے۔

پاکستان کی تجویز کسی واحد عالمی کرنسی یا فوری طور پر ایک جیسے قوانین نافذ کرنے کا اعلان نہیں بلکہ ممالک کے درمیان مشترکہ اصول، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور ذمہ دار ڈیجیٹل فنانس کے لیے تعاون بڑھانے کی اپیل ہے۔