اسلام آباد: پاکستان اور امریکا نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث توانائی کی فراہمی سے متعلق خدشات کے دوران ایل این جی، ایندھن کی سلامتی اور پاکستانی ریفائنریز کی اپ گریڈیشن میں ممکنہ تعاون پر بات چیت کی ہے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر سے ملاقات میں پاکستان کی جانب سے توانائی کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق خطے میں جاری تنازع نے ایندھن کی دستیابی کے لیے نئے چیلنج پیدا کیے ہیں اور حکومت ممکنہ رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کر رہی ہے۔ ملاقات میں پاکستان اسٹیٹ آئل اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے انتظامی سربراہان نے بھی شرکت کی اور امریکی کمپنیوں کی جانب سے پاکستان کو ایل این جی فراہم کرنے میں دلچسپی کے بارے میں بریفنگ دی۔
امریکی ناظم الامور نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر ایندھن کی قلت سے بچنے کے لیے کیے گئے انتظامات کو سراہا اور کہا کہ واشنگٹن پاکستان کی توانائی ضروریات کے سلسلے میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے امریکی کاروباری اداروں کے لیے پاکستان میں مواقع پیدا کرنے اور طویل مدتی توانائی سپلائی معاہدوں کے امکانات پر بھی مثبت رائے دی۔ تاہم ملاقات کے بعد کسی مخصوص امریکی کمپنی، مقدار، قیمت یا مدت پر مشتمل حتمی ایل این جی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
علی پرویز ملک نے پاکستانی ریفائنریز کے اپ گریڈیشن پروگرام کو امریکی مالیاتی اداروں کے لیے سرمایہ کاری کے ممکنہ شعبے کے طور پر پیش کیا۔ پاکستان کئی برس سے مقامی ریفائننگ صلاحیت کو جدید بنانے، بہتر معیار کے پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار بڑھانے اور درآمدی دباؤ کم کرنے کے لیے اپ گریڈیشن منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ اس عمل میں سرمایہ کاری کی دستیابی، پالیسی تسلسل اور منصوبوں کی تجارتی افادیت اہم عوامل ہیں۔
ملاقات میں توانائی تعاون کے علاوہ پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم کا بھی ذکر ہوا۔ وزیر پیٹرولیم نے امریکی کمپنیوں کو آئندہ فورم میں شرکت کی دعوت دی اور معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کیے۔ یہ دعوت حکومت کی اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت توانائی اور معدنیات میں بیرونی سرمایہ راغب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پاکستان کے لیے ایل این جی کی ممکنہ امریکی فراہمی کا معاملہ ایسے وقت زیر بحث آیا ہے جب علاقائی جنگ نے روایتی سپلائی ذرائع کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔ کسی بھی نئے طویل مدتی معاہدے کے حقیقی اثرات کا انحصار تجارتی شرائط، قیمت، شپنگ لاگت، ملکی گیس طلب اور موجودہ درآمدی ذمہ داریوں پر ہوگا۔ فی الحال دونوں ملکوں کی گفتگو تعاون کے امکانات اور کمپنیوں کی دلچسپی تک محدود ہے، اس لیے اسے حتمی خریداری یا سرمایہ کاری معاہدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
