اسلام آباد: پاکستان اور امریکا کے درمیان مجوزہ باہمی تجارتی معاہدے پر مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور اب چند تکنیکی نکات پر مزید بات چیت باقی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 21 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق سیکریٹری تجارت جواد پال نے یہ بات وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی زیر صدارت اجلاس میں بتائی، جس میں امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر بھی شریک تھیں۔

اجلاس میں دوطرفہ اقتصادی تعلقات، منڈی تک رسائی، زراعت، معدنیات، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون پر گفتگو ہوئی۔ وزارت تجارت کے بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے مذاکرات کو باہمی فائدے کے نتیجے تک آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ سیکریٹری تجارت نے بتایا کہ مجوزہ reciprocal trade agreement کی متعدد اہم دفعات پر پیش رفت ہو چکی ہے، جبکہ امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے ساتھ محدود تکنیکی امور پر بات باقی ہے۔

پاکستان نے زرعی مصنوعات، خاص طور پر آم اور کھجور کے لیے امریکی منڈی تک رسائی کے معاملات بھی اٹھائے۔ جواد پال نے آم کی برآمد کے انتظامات کے لیے متعلقہ امریکی معائنہ ٹیموں کے دورے کو تیز کرنے کی ضرورت بیان کی اور پاکستانی کھجور کے لیے زیر التوا مارکیٹ رسائی کے عمل میں پیش رفت چاہی۔ ان کے مطابق اس سے خصوصاً بلوچستان کے کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کے لیے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔

دونوں ممالک نے زرعی تجارت کے دوسرے رخ پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں امریکا سے کپاس اور سویابین کی پاکستان کو برآمد شامل ہے۔ پاکستانی حکام نے مسابقتی قیمت اور تجارتی فنانسنگ کو اہم قرار دیا۔ اجلاس میں جدید زرعی مشینری، فوڈ پروسیسنگ، کولڈ چین اور بہتر کاشتکاری طریقوں میں امریکی سرمایہ کاری کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔

یہ پیش رفت کسی حتمی معاہدے پر دستخط کی تصدیق نہیں ہے۔ حکام کے مطابق چند تکنیکی امور ابھی حل طلب ہیں، اس لیے تجارتی معاہدے کی حتمی شرائط اور نفاذ کا مرحلہ آئندہ مذاکرات اور سرکاری اعلانات سے واضح ہوگا۔ موجودہ اجلاس کا اہم نتیجہ یہ ہے کہ دونوں فریق مذاکرات کو مکمل کرنے اور زرعی و سرمایہ کاری تعاون بڑھانے کی سمت کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔