اسلام آباد: پاکستان نے ازبکستان کے ساتھ مل کر افغانستان سے گزرنے والی مجوزہ ریلوے لائن کے لیے بین الاقوامی مالی معاونت حاصل کرنے کی مشترکہ کوشش کی تجویز پیش کی ہے۔ عرب نیوز پاکستان کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے منگولیا میں ایک علاقائی اقتصادی کانفرنس کے موقع پر ازبک حکام کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ منصوبے کی فزیبلٹی پر کام تیز کیا جائے اور بین الاقوامی قرض دہندگان و ترقیاتی اداروں سے رابطے کے لیے مشترکہ طریقۂ کار بنایا جائے۔
مجوزہ ٹرانس افغان ریلوے کا مقصد خشکی میں گھرے ازبکستان کو افغانستان کے راستے پاکستان کے ریلوے نیٹ ورک اور بالآخر بحیرہ عرب کی بندرگاہوں تک رسائی دینا ہے۔ پاکستان، افغانستان اور ازبکستان نے جولائی 2025 میں منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی تیار کرنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا، تاہم تعمیراتی مرحلے کے لیے ابھی مالی بندوبست طے نہیں ہوا۔ عرب نیوز کے مطابق پاکستانی بیان میں یہ نہیں کہا گیا کہ ازبکستان نے تازہ پاکستانی تجویز قبول کر لی ہے یا کسی بین الاقوامی ادارے نے فنڈنگ دینے کا وعدہ کیا ہے۔
احسن اقبال نے اسی دورے کے دوران پاکستان کے مین لائن ون ریلوے نیٹ ورک کی جدید کاری پر بھی ترقیاتی شراکت داروں سے بات کی۔ انہوں نے کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,726 کلومیٹر طویل ایم ایل ون کو ملکی مسافر اور مال برداری کے نظام کے لیے بنیادی راہداری قرار دیا۔ پاکستان اس وقت کراچی سے روہڑی تک تقریباً 480 کلومیٹر حصے کو ترجیح دے رہا ہے۔ وزیر منصوبہ بندی کے مطابق اس حصے کی لاگت تقریباً 2.5 ارب ڈالر ہے اور ایشیائی ترقیاتی بینک مالیاتی عمل کی قیادت کر رہا ہے، اگرچہ تعمیر کے لیے مکمل فنانسنگ ابھی منظور نہیں ہوئی۔
وزارت منصوبہ بندی نے اگست میں ایک الگ سرکاری اجلاس کے بعد بھی بتایا تھا کہ ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کے لیے مختلف مالیاتی طریقوں پر کام جاری ہے، جن میں غیر ملکی سرمایہ، سرکاری و نجی شراکت داری، مقامی بینکنگ اور ترقیاتی بجٹ شامل ہیں۔ وزارت کے مطابق کراچی-روہڑی سیکشن پر ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت سے پیش رفت حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
ٹرانس افغان ریلوے کی عملی تکمیل کا انحصار صرف سرمایہ کاری پر نہیں بلکہ تینوں ممالک کے درمیان مسلسل تکنیکی اور انتظامی تعاون پر بھی ہوگا۔ موجودہ مرحلے میں اسے منظور شدہ اور مکمل فنڈنگ والے تعمیراتی منصوبے کے بجائے فزیبلٹی اور مالیاتی بندوبست کی سطح پر موجود علاقائی رابطہ منصوبہ سمجھنا درست ہوگا۔ تازہ پیش رفت بنیادی طور پر پاکستان کی جانب سے مشترکہ فنانسنگ کی تجویز ہے، نہ کہ تعمیر شروع ہونے یا کسی قرض معاہدے کے حتمی ہونے کا اعلان۔
