پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی اکتوبر 2026 کے آخری ہفتے میں بھی دو ہندسوں میں برقرار رہی اور حساس قیمت اشاریے، ایس پی آئی، کے مطابق سالانہ بنیاد پر 11.32 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ ہفتہ وار اعداد و شمار روزمرہ استعمال کی منتخب ضروری اشیا کی قیمتوں میں تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں اور کم و متوسط آمدنی والے گھرانوں پر فوری مہنگائی کے دباؤ کا ایک اہم پیمانہ سمجھے جاتے ہیں۔

تازہ اعداد و شمار میں جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا کی قیمتیں نمایاں عامل رہیں۔ سبزیوں اور دیگر بنیادی خوراک کی قیمتوں میں موسمی اور رسدی تبدیلیاں ہفتہ وار اشاریے کو تیزی سے متاثر کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بلند سطح نے نقل و حمل اور تقسیم کے اخراجات کے ذریعے صارفین کے مجموعی خرچ پر دباؤ برقرار رکھا ہے۔

ایس پی آئی میں مختلف آمدنی والے گروپوں کے لیے قیمتوں کی تبدیلی الگ الگ بھی دیکھی جاتی ہے، کیونکہ خوراک اور توانائی پر خرچ کا تناسب کم آمدنی والے گھرانوں میں نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ضروری اشیا کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی ایسے خاندانوں کے بجٹ پر زیادہ اثر ڈال سکتا ہے۔

ہفتہ وار اشاریہ ملک میں مجموعی افراط زر کا واحد پیمانہ نہیں ہے۔ ماہانہ کنزیومر پرائس انڈیکس زیادہ وسیع اشیا اور خدمات کا احاطہ کرتا ہے، تاہم ایس پی آئی بازار میں تیزی سے بدلنے والی ضروری اشیا کی سمت کا نسبتاً فوری اشارہ فراہم کرتا ہے۔ اس لیے پالیسی ساز، کاروباری ادارے اور صارفین اسے قیمتوں کے قلیل مدتی رجحان کو سمجھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

مہنگائی کی تازہ سطح ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان میں توانائی کی قیمتیں علاقائی اور عالمی رسدی خدشات سے متاثر ہوئی ہیں۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی سرکاری قیمت حالیہ ایڈجسٹمنٹ کے بعد 400 روپے فی لیٹر سے اوپر جا چکی ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمت میں تازہ نظرثانی پر تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔ ڈیزل زرعی پیداوار اور مال برداری میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی بلند قیمت خوراک سمیت دیگر اشیا کی لاگت میں منتقل ہو سکتی ہے۔

حکومت اور مرکزی بینک کے لیے قیمتوں کا یہ رجحان اہم ہے کیونکہ افراط زر، شرح سود، مالیاتی نظم اور حقیقی آمدنی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک ہفتے کے اعداد و شمار سے طویل مدتی سمت اخذ نہیں کی جا سکتی، لیکن مسلسل دو ہندسوں کی ہفتہ وار شرح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ گھرانوں کے لیے روزمرہ اخراجات کا دباؤ ابھی نمایاں طور پر ختم نہیں ہوا۔