اسلام آباد: پاکستان نے امریکا کی جانب سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان بات چیت میں معاونت کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا اور دیگر دوست ممالک کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کے لیے تیار ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق کسی بھی بامعنی مذاکراتی عمل کے لیے ضروری ہے کہ افغان طالبان حکام افغانستان کی سرزمین سے سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے خلاف واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کریں۔

دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں تحریک طالبان پاکستان، فتنہ الخوارج، بلوچستان لبریشن آرمی، فتنہ الہندوستان اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی اور سرگرمیوں سے متعلق پاکستان کے سکیورٹی خدشات کا عملی حل دونوں ممالک کے درمیان نتیجہ خیز رابطے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ صرف سفارتی رابطہ کافی نہیں ہوگا بلکہ زمینی سطح پر ایسے اقدامات بھی درکار ہیں جن کی تصدیق کی جا سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تعمیری رابطے کے لیے بدستور پرعزم ہے۔ تاہم اسلام آباد چاہتا ہے کہ مذاکرات سے ایسے ٹھوس نتائج سامنے آئیں جو سرحد پار عسکریت پسندی اور پاکستان کی داخلی سلامتی سے متعلق خدشات کو کم کریں۔ دفتر خارجہ نے امریکی پیشکش کو اسی تناظر میں ایک ممکنہ سفارتی سہولت قرار دیا ہے، نہ کہ کسی حتمی معاہدے یا مذاکراتی فریم ورک کے طے ہو جانے کے طور پر۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں حالیہ عرصے کے دوران سکیورٹی کا معاملہ مرکزی تنازع رہا ہے۔ اسلام آباد متعدد مرتبہ یہ الزام عائد کر چکا ہے کہ پاکستان مخالف عسکریت پسند افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں، جبکہ کابل ماضی میں ایسے الزامات کی تردید یا مختلف تشریح کرتا رہا ہے۔ اس لیے دفتر خارجہ کے تازہ بیان میں عسکریت پسند گروہوں کے خلاف 'قابلِ تصدیق' اقدامات پر زور سفارتی بات چیت کے لیے پاکستان کی بنیادی شرط کو نمایاں کرتا ہے۔

امریکی یا کسی تیسرے ملک کی ممکنہ سہولت کاری کے باوجود مذاکرات کا آغاز، فارمیٹ اور نتائج ابھی طے شدہ نہیں ہیں۔ پاکستان نے فی الحال اصولی طور پر مخلصانہ ثالثی یا سہولت کاری کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے افغانستان کے ساتھ اپنے سکیورٹی مسائل کے حل سے جوڑا ہے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار متعلقہ فریقوں کے عملی اقدامات اور مذاکراتی رضامندی پر ہوگا۔