کراچی: پاکستان کی جانب سے 185 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے اور درآمد کرنے کے لیے جاری ٹینڈر میں ابتدائی تجارتی اندازوں کے مطابق 339.36 ڈالر فی میٹرک ٹن کی کم ترین پیشکش سامنے آئی ہے۔ یورپی تاجروں نے بتایا کہ یہ پیشکش تقریباً 60 ہزار ٹن گندم کے لیے تجارتی ادارے بنگے کی جانب سے دی گئی اور اس میں لاگت اور فریٹ شامل ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ، جسے بزنس ریکارڈر نے شائع کیا، کے مطابق ریاستی ادارہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) موصول ہونے والی پیشکشوں کا جائزہ لے رہا ہے اور ابھی کسی خریداری کی تصدیق نہیں ہوئی۔ تاجروں نے واضح کیا کہ دستیاب قیمتیں اور مقداریں ابتدائی اندازے ہیں اور حتمی جانچ کے دوران ان میں تبدیلی ممکن ہے۔ اس لیے کم ترین بولی سامنے آنے کو خریداری کا حتمی معاہدہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔

ابتدائی فہرست کے مطابق بنگے کے بعد اولام نے 341.88 ڈالر، امروپا نے 343.47 ڈالر اور ایگروکارپ نے 343.74 ڈالر فی ٹن کی پیشکش کی، جبکہ متعدد دوسرے بین الاقوامی تجارتی اداروں نے بھی مختلف مقداروں کے لیے بولیاں جمع کرائیں۔ زیادہ تر پیشکشیں 60 ہزار ٹن کے حصوں میں تھیں، جبکہ ایک ادارے نے 120 ہزار ٹن تک کی مقدار پیش کی۔

موجودہ ٹینڈر ایسے وقت میں آیا ہے جب بحیرہ اسود کے راستے سستی روسی اور یوکرینی گندم کی سمندری ترسیل لڑائی کے باعث شدید متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں اور متبادل منڈیوں سے رسد نسبتاً مہنگی پڑ رہی ہے۔ اس سے قبل رواں ماہ TCP نے 750 ہزار ٹن تک گندم کے ایک ٹینڈر کے تحت 365 ہزار ٹن گندم 348.83 ڈالر فی ٹن لاگت و فریٹ سمیت خریدی تھی۔ اس کے بعد مزید 185 ہزار ٹن کے لیے موجودہ ٹینڈر جاری کیا گیا۔

حتمی درآمدی لاگت، سپلائرز کے انتخاب اور ترسیل کی تفصیلات TCP کے فیصلے کے بعد واضح ہوں گی۔ گندم کی درآمد ملکی رسد، سرکاری ذخائر اور قیمتوں کے انتظام کے لیے اہم ہے، تاہم اس ٹینڈر کے مرحلے پر صرف موصولہ پیشکشیں سامنے آئی ہیں اور کسی معاہدے کی تکمیل کی تصدیق نہیں ہوئی۔