کراچی/دوحہ: پاکستان نے دوحہ میں منعقدہ ورلڈ انویسٹمنٹ فورم 2026 کے دوران قطر اور ترکی کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کی ہیں۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے فورم میں شرکت کے دوران حکومتی عہدیداروں اور کاروباری نمائندوں سے ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تجارتی روابط اور سرمایہ کاری کے ممکنہ شعبوں پر گفتگو ہوئی۔

عرب نیوز پاکستان کے مطابق اقوام متحدہ کے پرچم بردار عالمی سرمایہ کاری اجتماع میں مصنوعی ذہانت، بنیادی ڈھانچے، توانائی، پائیدار مالیات، کاروباری سرگرمی، موسمیاتی لچک اور خصوصی اقتصادی زونز جیسے موضوعات زیر بحث ہیں۔ پاکستانی وفد نے اس پلیٹ فارم کو ملک میں سرمایہ کاری کے امکانات اجاگر کرنے اور موجودہ تجارتی شراکت داریوں کو مزید وسیع کرنے کے لیے استعمال کیا۔

جام کمال خان کی ملاقاتوں میں قطر اور ترکی کے ساتھ تجارت، زراعت، غذائی تحفظ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات شامل رہے۔ یہ شعبے پاکستان کی برآمدات بڑھانے، غیر ملکی سرمایہ کاری لانے اور علاقائی و خلیجی منڈیوں کے ساتھ تجارتی انضمام بہتر بنانے کی حکومتی کوششوں میں اہم سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستان حالیہ برسوں میں خلیجی ممالک کے ساتھ روایتی تجارتی تعلقات کے ساتھ براہ راست سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔ قطر کے ساتھ توانائی اور افرادی قوت کے شعبوں میں پہلے سے تعلقات موجود ہیں، جبکہ ترکی کے ساتھ تجارت، صنعت اور دفاع سمیت متعدد شعبوں میں تعاون جاری ہے۔ دوحہ فورم میں ہونے والی ملاقاتوں کا مقصد ان روابط کو نئے کاروباری مواقع تک پھیلانا بتایا گیا ہے۔

فورم میں ہونے والی بات چیت کو ابھی کسی حتمی سرمایہ کاری معاہدے یا مخصوص مالی حجم کی تصدیق کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق یہ ملاقاتیں تعاون کے امکانات، کاروباری رابطوں اور آئندہ مذاکرات کے لیے بنیاد فراہم کرنے پر مرکوز رہیں۔ کسی منصوبے کی عملی پیش رفت کے لیے متعلقہ اداروں، کمپنیوں اور حکومتوں کے درمیان مزید تکنیکی اور تجارتی مذاکرات درکار ہوں گے۔

پاکستانی حکام کے لیے ایسے عالمی فورمز میں شرکت کا ایک اہم مقصد برآمدی منڈیوں میں تنوع، نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور پاکستان کے قابل سرمایہ کاری شعبوں کی بین الاقوامی سطح پر تشہیر ہے۔ دوحہ میں ہونے والی سرگرمیوں کے بعد اصل پیش رفت کا اندازہ ان رابطوں سے پیدا ہونے والے معاہدوں، سرمایہ کاری کے فیصلوں اور تجارتی حجم میں عملی اضافے سے ہوگا۔