اسلام آباد: پاکستان میں چینی سرمایہ کاری والے منصوبوں کے لیے مقامی افرادی قوت تیار کرنے کی غرض سے 100 پاکستانی کارکنوں کا دو ماہ کا فنی تربیتی پروگرام شروع کر دیا گیا ہے۔ پروگرام کا مقصد ایسے ہنر فراہم کرنا ہے جن کی تعمیراتی اور صنعتی منصوبوں میں عملی طلب موجود ہے، تاکہ مقامی کارکن ملازمت کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں اور سرمایہ کار اداروں کو تربیت یافتہ افرادی قوت دستیاب ہو۔
رپورٹ کے مطابق تربیتی پروگرام کسبِ کمال ووکیشنل سینٹر نے CIIC اور مقامی تکنیکی تربیتی ادارے KEK کے تعاون سے شروع کیا ہے۔ مجموعی طور پر 100 امیدواروں میں سے 50 کو لو وولٹیج الیکٹریکل ورک اور 50 کو رِویٹنگ کی تربیت دی جائے گی۔ یہ دونوں مہارتیں تعمیرات، صنعتی تنصیبات اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
منتظمین کے مطابق تربیت کامیابی سے مکمل کرنے والے امیدواروں کی جانچ کی جائے گی اور انہیں متعلقہ منصوبوں میں روزگار کے لیے ترجیح دی جائے گی۔ ممکنہ منصوبوں میں پاور چائنا سے وابستہ سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم تربیت مکمل کرنا خودکار طور پر ملازمت کی ضمانت نہیں؛ دستیاب آسامیوں، امیدوار کی کارکردگی اور متعلقہ کمپنی کی بھرتی شرائط کے مطابق روزگار کا فیصلہ ہوگا۔
پروگرام میں تکنیکی تربیت کے ساتھ چینی زبان کی بنیادی تعلیم اور کام کی جگہ پر حفاظتی اصول بھی شامل کیے گئے ہیں۔ CIIC ٹیکنالوجی گروپ کے جنرل منیجر وانگ کانگ اور انٹرنیشنل بزنس ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ہوانگ جو نے افتتاحی تقریب میں کہا کہ مقامی کارکنوں کی فنی صلاحیت بہتر بنانے سے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ چینی کمپنیوں کی افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
پاکستان میں بڑے انفراسٹرکچر، توانائی اور صنعتی منصوبوں کے ساتھ ہنرمند کارکنوں کی طلب ایک مستقل پالیسی مسئلہ رہی ہے۔ ایسے تربیتی پروگرام اس خلا کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں عمومی تعلیم رکھنے والے امیدواروں اور مخصوص صنعتی مہارت مانگنے والی ملازمتوں کے درمیان فرق موجود ہوتا ہے۔ مختصر مدت کی تربیت کا فائدہ اس وقت زیادہ ہو سکتا ہے جب نصاب براہ راست ملازمت کی حقیقی ضروریات سے منسلک ہو اور کامیاب امیدواروں کے لیے واضح بھرتی راستہ موجود ہو۔
موجودہ پروگرام کا ابتدائی دائرہ 100 کارکنوں تک محدود ہے، اس لیے اس کے مجموعی روزگار اثرات کا اندازہ تربیت مکمل ہونے، امیدواروں کی جانچ اور عملی بھرتیوں کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔ اگر ماڈل کامیاب رہتا ہے تو اسی نوعیت کے صنعتی شعبوں میں مقامی تکنیکی افرادی قوت کی تیاری کے لیے اسے وسیع کرنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ فی الحال پروگرام کا بنیادی ہدف دو مخصوص فنی شعبوں میں تربیت، زبان اور حفاظتی تیاری کو ایک مربوط کورس میں فراہم کرنا ہے۔
