اسلام آباد: پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی 29 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں سالانہ بنیاد پر 11.32 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں حساس قیمت اشاریہ (SPI) میں 0.35 فیصد کمی ہوئی۔ پاکستان بیورو شماریات کے جاری کردہ اعداد کے مطابق ضروری اشیائے خورونوش اور توانائی کی قیمتوں میں مختلف سمتوں میں تبدیلی کے باعث مجموعی ہفتہ وار اشاریے میں معمولی کمی کے باوجود سالانہ مہنگائی دو ہندسوں میں برقرار رہی۔

SPI میں 51 ضروری اشیا کی قیمتیں ملک کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے جمع کی جاتی ہیں۔ تازہ ہفتے میں 15 اشیا کی قیمتیں بڑھیں، 12 میں کمی آئی جبکہ 24 اشیا کی قیمتیں گزشتہ ہفتے کی سطح پر برقرار رہیں۔ اس پیمانے کا مقصد روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا اور خدمات میں مختصر مدت کی قیمت تبدیلی کو مانیٹر کرنا ہے۔

ہفتہ وار بنیاد پر سب سے نمایاں اضافہ ٹماٹر کی قیمت میں 34.91 فیصد ریکارڈ ہوا۔ آلو 3.27 فیصد، ہائی اسپیڈ ڈیزل 2.53 فیصد، چنے کی دال 2.11 فیصد اور سادہ روٹی 1.29 فیصد مہنگی ہوئی۔ پیاز، تازہ دودھ، دہی، بناسپتی گھی اور جلانے کی لکڑی کی قیمتوں میں بھی نسبتاً کم اضافہ سامنے آیا۔

دوسری جانب بعض اشیا نے ہفتہ وار اشاریے کو نیچے لانے میں کردار ادا کیا۔ پہلی سہ ماہی کے بجلی چارجز میں 3.92 فیصد، مرغی میں 2.95 فیصد، انڈوں میں 2.81 فیصد اور گندم کے آٹے میں 0.83 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔ ایل پی جی، کیلے، اری چاول، مسور کی دال، پٹرول، چینی اور پاؤڈر دودھ کی قیمتوں میں بھی ہفتہ وار کمی رپورٹ ہوئی۔

سالانہ بنیاد پر توانائی سے متعلق بعض اشیا میں بہت بڑا اضافہ برقرار رہا۔ اعداد کے مطابق ایل پی جی 106.86 فیصد، پہلی سہ ماہی کے بجلی چارجز 52.38 فیصد، ڈیزل 45.13 فیصد اور پٹرول 43.61 فیصد مہنگا تھا۔ گندم کے آٹے کی قیمت میں سالانہ 34.87 فیصد اور مرغی میں 31.72 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد مختلف آمدنی والے گھرانوں پر توانائی اور خوراک کی قیمتوں کے دباؤ کو ظاہر کرتے ہیں۔

کچھ اشیا سالانہ بنیاد پر نمایاں سستی بھی ہوئیں۔ آلو 38.67 فیصد، ٹماٹر 27.99 فیصد، انڈے 26.70 فیصد اور چینی 25.21 فیصد گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں کم قیمت پر ریکارڈ ہوئے۔ ٹماٹر کا ہفتہ وار تیز اضافہ اور سالانہ کمی ایک ساتھ اس بات کی مثال ہے کہ زرعی اشیا کی قیمتوں میں قلیل مدت کے اتار چڑھاؤ اور طویل مدتی موازنہ مختلف تصویر پیش کر سکتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے سالانہ SPI مہنگائی 11.85 فیصد تھی، اس لیے تازہ 11.32 فیصد شرح میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم یہ مسلسل دو ہندسوں میں رہنے والی قلیل مدتی مہنگائی کے سلسلے کا حصہ ہے۔ آئندہ ہفتوں میں خوراک، پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور ایل پی جی کی قیمتوں کی سمت اس اشاریے پر اہم اثر ڈالے گی۔