اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والی مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں 58.5 ارب روپے بعد از ٹیکس منافع رپورٹ کیا ہے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 38.3 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 52.7 فیصد زیادہ ہے۔ کمپنی کے مالی نتائج پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمع کرائے گئے اور بورڈ آف ڈائریکٹرز نے سہ ماہی کے لیے 5 روپے فی شیئر عبوری نقد منافع کا بھی اعلان کیا۔
کمپنی کی خالص سیلز آمدن ایک سال پہلے کے 96.2 ارب روپے سے بڑھ کر 132.4 ارب روپے ہوگئی، یعنی تقریباً 38 فیصد اضافہ ہوا۔ فی شیئر آمدن 8.91 روپے سے بڑھ کر 13.60 روپے تک پہنچ گئی۔ بورڈ کی جانب سے اعلان کردہ 5 روپے فی شیئر نقد ڈیویڈنڈ کو کمپنی کا اب تک کا سب سے زیادہ پہلی سہ ماہی کا عبوری payout قرار دیا گیا ہے؛ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 3.50 روپے فی شیئر تھا۔
او جی ڈی سی ایل کے مطابق بہتر مالی کارکردگی میں تیل اور گیس کی زیادہ پیداواری مقدار اور بین الاقوامی توانائی قیمتوں سے حاصل ہونے والی مضبوط realised prices نے اہم کردار ادا کیا۔ دوسری جانب جبری پیداواری کمی اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بہتری نے ان مثبت اثرات کو جزوی طور پر محدود کیا۔ کمپنی نے سہ ماہی کے دوران بلنگ کے مقابلے میں وصولیوں کی شرح 100 فیصد بتائی ہے۔
مالی نتائج کے مطابق کمپنی نے ٹیکس، ڈیویڈنڈ، رائلٹی اور دیگر لیویز کی مد میں قومی خزانے میں تقریباً 82 ارب روپے کا حصہ ڈالا۔ او جی ڈی سی ایل کا کہنا ہے کہ مقامی تیل و گیس پیداوار کے ذریعے درآمدی متبادل کی وجہ سے ملک کو اندازاً 1.32 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ہوئی۔ یہ تخمینہ کمپنی کی اپنی پیداواری اور درآمدی متبادل کی حساب کاری پر مبنی ہے۔
دستیاب مالیاتی تفصیل میں مجموعی منافع بھی نمایاں طور پر بڑھا جبکہ exploration اور prospecting اخراجات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے باوجود آمدن میں تیز اضافے اور دیگر مالی آمدنی نے بعد از ٹیکس منافع کو گزشتہ سال کی نسبت واضح طور پر اوپر رکھا۔ پاکستان کی سب سے بڑی تیل و گیس تلاش اور پیداوار کرنے والی کمپنی ہونے کے باعث او جی ڈی سی ایل کے نتائج توانائی شعبے، سرکاری محصولات اور اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔
یہ اعداد کمپنی کی سہ ماہی مالیاتی رپورٹ اور اسٹاک ایکسچینج فائلنگ سے متعلق ہیں اور مکمل مالی سال کی کارکردگی کی ضمانت نہیں دیتے۔ آئندہ سہ ماہیوں میں عالمی تیل و گیس قیمتیں، مقامی پیداوار، کرنسی کی قدر، پیداواری curtailment اور وصولیوں کی صورتحال کمپنی کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
