اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے 39,704 کمپنیوں کو ’’Inactive by Registrar‘‘ یعنی رجسٹرار کی جانب سے غیر فعال قرار دے دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق ان کمپنیوں نے مسلسل چار سال تک مطلوبہ سالانہ ریٹرنز اور/یا مالی بیانات جمع نہیں کرائے، جس کے باعث ان کا غیر فعال اسٹیٹس کارپوریٹ رجسٹری میں ظاہر کیا جائے گا۔
ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد کارپوریٹ رجسٹر کو زیادہ قابل اعتماد بنانا اور طویل عرصے سے غیر فعال یا non-filing کمپنیوں کے ممکنہ غلط استعمال کے خطرات کم کرنا ہے۔ کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت متعلقہ کمپنیوں کے لیے سالانہ ریٹرنز اور، جہاں لازم ہو، مالی بیانات جمع کرانا قانونی تقاضا ہے۔ یہ ریکارڈ کمپنی کی ملکیت، انتظامیہ اور موجودہ حیثیت سے متعلق عوامی معلومات کو تازہ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
غیر فعال نشان زد کمپنیوں کا اسٹیٹس ایس ای سی پی کے نظام میں بینکوں اور دیگر متعلقہ اداروں کو نظر آئے گا۔ کمیشن کے مطابق ایسی کمپنیاں اپنی زیر التوا فائلنگ مکمل کرکے فعال حیثیت بحال کرنے تک نئے بینک اکاؤنٹس نہیں کھول سکیں گی، بعض مالی خدمات تک رسائی محدود ہوگی اور ڈائریکٹرز میں تبدیلی جیسے کارپوریٹ اقدامات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
شہر وار اعداد کے مطابق لاہور میں 13,927، اسلام آباد میں 13,859، کراچی میں 4,868، پشاور میں 2,031، ملتان میں 1,861، فیصل آباد میں 1,384، گلگت میں 1,102، کوئٹہ میں 436 اور سکھر میں 236 کمپنیاں اس کارروائی میں شامل ہیں۔ یہ اعداد مختلف رجسٹریشن مراکز سے منسلک کمپنیوں کی تعداد ظاہر کرتے ہیں۔
ایس ای سی پی نے طویل عرصے تک فائلنگ نہ ہونے کو صرف انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ مالیاتی نظام کی شفافیت سے جڑا معاملہ قرار دیا ہے۔ غیر تازہ کارپوریٹ معلومات منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے نظام میں بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہیں، کیونکہ اداروں کے لیے کمپنی کی حقیقی حیثیت، انتظامیہ اور ownership کی درست شناخت ضروری ہوتی ہے۔
کمیشن کے مطابق ستمبر 2026 کے اختتام تک پاکستان میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 317,002 تھی۔ گزشتہ مالی سال میں 43,559 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ بتائی گئی ہیں۔ نئی کمپنیوں کی incorporation کا تقریباً تمام عمل آن لائن ہو چکا ہے، جس سے رجسٹریشن آسان ہوئی ہے لیکن موجودہ کمپنیوں کی مسلسل compliance برقرار رکھنا الگ نگرانی کا تقاضا کرتا ہے۔
غیر فعال قرار دینا کمپنی کے فوری طور پر تحلیل ہو جانے کے مترادف نہیں ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کو اپنی واجب الادا قانونی دستاویزات جمع کرا کے اور متعلقہ تقاضے پورے کرکے فعال حیثیت واپس حاصل کرنے کا راستہ دستیاب ہے۔ اس لیے کارروائی کا بنیادی مقصد کارپوریٹ رجسٹر کی صفائی اور تعمیل پر دباؤ بڑھانا ہے، نہ کہ ہر non-filing کمپنی کو خودکار طور پر ختم کرنا۔
