لاہور: اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) اور عالمی ای کامرس پلیٹ فارم علی بابا نے پاکستانی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے تربیت فراہم کرنے کی مشترکہ کوشش پر پیش رفت کی ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق پروگرام کا ہدف 10 ہزار ایس ایم ایز کو برآمدی ای کامرس، آن لائن مارکیٹنگ اور بین الاقوامی خریداروں تک رسائی سے متعلق عملی مہارتیں فراہم کرنا ہے۔
پاکستان کی برآمدی حکمت عملی میں چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی شمولیت ایک اہم چیلنج رہی ہے۔ بہت سے مقامی کاروبار معیاری مصنوعات تیار کرنے کے باوجود بین الاقوامی مارکیٹنگ، ڈیجیٹل ادائیگیوں، سرحد پار لاجسٹکس، برآمدی دستاویزات اور خریدار تلاش کرنے کے جدید ذرائع تک محدود رسائی رکھتے ہیں۔ مجوزہ تربیتی تعاون کا مقصد ان رکاوٹوں کو کم کرنا اور کاروباروں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بیرونی منڈیوں سے جوڑنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سمیڈا کی ادارہ جاتی رسائی اور علی بابا کے ای کامرس تجربے کو یکجا کرکے کاروباری اداروں کو عالمی آن لائن تجارت کے تقاضوں سے آگاہ کیا جائے گا۔ تربیت میں مصنوعات کی آن لائن پیشکش، خریداروں سے رابطہ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور برآمدی مواقع کی شناخت جیسے موضوعات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ہر شریک کاروبار کی حقیقی برآمدی کامیابی اس کی مصنوعات کے معیار، قیمت، سرٹیفکیشن، لاجسٹکس اور بین الاقوامی طلب پر منحصر رہے گی۔
دس ہزار ایس ایم ایز کی تربیت کا ہدف ایک استعداد سازی پروگرام ہے، اسے دس ہزار نئے برآمد کنندگان یا کسی مخصوص برآمدی مالیت کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔ پروگرام کی کامیابی کا اہم پیمانہ یہ ہوگا کہ تربیت حاصل کرنے والے کاروباروں میں سے کتنے ادارے عملی طور پر نئے خریدار حاصل کرتے، برآمدی آرڈر مکمل کرتے اور مستقل بین الاقوامی فروخت قائم کرتے ہیں۔
پاکستانی حکومت حالیہ برسوں میں برآمدات کو روایتی شعبوں سے آگے بڑھانے، ڈیجیٹل تجارت کو فروغ دینے اور ایس ایم ایز کو رسمی معیشت اور عالمی ویلیو چینز سے جوڑنے پر زور دیتی رہی ہے۔ اس تناظر میں سمیڈا اور علی بابا کا تعاون نجی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم اور سرکاری کاروباری ترقی کے ادارے کے درمیان ایک عملی رابطہ فراہم کرتا ہے۔ آئندہ مرحلے میں تربیت کے شیڈول، شرکا کے انتخاب، شہروں یا شعبوں کی ترجیح اور پروگرام کے نتائج سے متعلق تفصیلات اس اقدام کے حقیقی اثرات کا تعین کریں گی۔

