اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سینیٹ میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) سے متعلق ترمیمی بل 2026 پیش کیا ہے جس کا اہم مقصد قدرتی گیس کی قیمتوں کے تعین کے موجودہ طریقہ کار میں تبدیلی لانا ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ قانون میں گیس ٹیرف کے جائزے کو چھ ماہ کی بنیاد سے تبدیل کرکے سہ ماہی، یعنی ہر تین ماہ بعد، کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

گیس کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے توانائی شعبے میں مالی خسارے، درآمدی لاگت، مقامی پیداوار اور گیس کمپنیوں کی آمدن کی ضروریات سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ قیمتوں کے درمیان طویل وقفہ ہونے کی صورت میں حقیقی لاگت اور صارفین سے وصول ہونے والے نرخوں میں فرق بڑھ سکتا ہے، جس سے گردشی قرض اور سرکاری مالی دباؤ میں اضافہ ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ سہ ماہی جائزے کی تجویز اسی فرق کو نسبتاً جلد ایڈجسٹ کرنے کے مقصد سے سامنے آئی ہے۔

بل کے تحت اوگرا کو مقررہ مدت میں ریونیو ضروریات اور متعلقہ مالی عوامل کا جائزہ لینے کے موجودہ قانونی فریم ورک میں تبدیلی کرنا ہوگی۔ تاہم سینیٹ میں بل پیش ہونا اس کے قانون بننے کے مترادف نہیں ہے۔ مجوزہ ترمیم کو پارلیمانی عمل، متعلقہ کمیٹیوں کے جائزے اور دونوں ایوانوں سے درکار منظوریوں سے گزرنا ہوگا، جس کے بعد ہی صدر کی توثیق اور قانونی نفاذ کا مرحلہ آ سکتا ہے۔

سہ ماہی قیمت بندی کے حامیوں کے نزدیک اس سے گیس کمپنیوں کی مالی ضروریات اور صارف نرخوں کے درمیان تاخیر کم ہو سکتی ہے، جبکہ صارفین اور صنعت کے لیے زیادہ بار قیمت تبدیل ہونے کا امکان بجٹ اور پیداواری لاگت میں غیر یقینی بڑھا سکتا ہے۔ اس لیے حتمی قانون اور اس کے تحت بننے والے قواعد میں قیمت کے تعین، نوٹیفکیشن اور مختلف صارف زمروں پر بوجھ کی تقسیم اہم ہوگی۔

پاکستان کا گیس شعبہ مقامی ذخائر میں کمی، مہنگی درآمدی آر ایل این جی، واجبات اور گردشی قرض جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ حکومت اور ریگولیٹر کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ توانائی کمپنیوں کی مالی پائیداری کو برقرار رکھتے ہوئے گھریلو صارفین اور صنعت پر اچانک قیمتوں کے اثرات کو کس طرح متوازن کیا جائے۔ سینیٹ میں پیش کردہ ترمیمی بل اسی وسیع تر اصلاحاتی عمل کا حصہ ہے، لیکن اس کی حتمی شکل پارلیمانی بحث اور ممکنہ ترامیم کے بعد ہی واضح ہوگی۔