اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نیشنل بینک آف پاکستان کے 1949 کے قانونی فریم ورک میں وسیع ترامیم کی تجویز دی ہے تاکہ بینک کی گورننس اور آپریشنز سے متعلق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرط پوری کی جا سکے۔ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی نے نیشنل بینک ترمیمی ایکٹ 2026 کے مسودے کی منظوری دے دی ہے، تاہم مجوزہ قانون کو حتمی شکل دینے کے لیے وفاقی کابینہ اور پھر پارلیمان کے مراحل باقی ہیں۔
مجوزہ نظام کے تحت نیشنل بینک پر بیک وقت نیشنل بینک ایکٹ، اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز ایکٹ اور پاکستان سوورن ویلتھ فنڈ ایکٹ کی متعلقہ دفعات لاگو ہوں گی، جبکہ بینکاری ریگولیٹر کے طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا اختیار برقرار رہے گا۔ حکومت نے نیشنل بینک کو اسٹریٹجک سرکاری ادارہ قرار دے رکھا ہے اور یہ فنانس ڈویژن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
مسودے کے مطابق نیشنل بینک کے صدر کی تقرری وفاقی حکومت، اسٹیٹ بینک سے مشاورت کے بعد، مرکزی بورڈ کی جانب سے تجویز کردہ تین امیدواروں میں سے کرے گی۔ ان تین ناموں کی سفارش کے لیے بورڈ کی تین چوتھائی اکثریت درکار ہوگی اور اس اکثریت میں فنانس ڈویژن کے بطور عہدہ ڈائریکٹر کا مثبت ووٹ لازمی ہوگا۔ اس شرط کے باعث فنانس ڈویژن کا نمائندہ ایسے ناموں کو روکنے کی عملی صلاحیت رکھے گا جن کی وہ حمایت نہ کرے۔
صدر کی مدت تین سال تجویز کی گئی ہے اور کارکردگی تسلی بخش ہونے پر وفاقی حکومت اسے توسیع دے سکے گی۔ صدر کی ملازمت کی شرائط بورڈ طے کرے گا لیکن وفاقی حکومت کی منظوری ضروری ہوگی۔ اگر سرکاری اداروں کے قانون اور نیشنل بینک قانون میں تضاد ہو تو مجوزہ مسودے کے مطابق اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز ایکٹ کو فوقیت حاصل ہوگی۔
نئے بورڈ میں آزاد اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ڈائریکٹرز کی اکثریت ہوگی۔ وفاقی حکومت اسٹیٹ بینک سے مشاورت کے بعد نجی شعبے سے چار آزاد ڈائریکٹر مقرر کرے گی، جبکہ چیئرمین بھی آزاد ڈائریکٹرز میں سے منتخب کیا جائے گا۔ بورڈ کے ارکان کی مجموعی تعداد چھ سے کم اور نو سے زیادہ نہیں ہوگی اور آزاد ارکان کی اکثریت برقرار رکھنا لازم ہوگا۔ مجوزہ قانون آڈٹ کمیٹی کے قیام اور موجودہ مقامی بورڈز و علاقائی انتظامی کمیٹیوں کے خاتمے کی بھی تجویز دیتا ہے۔
یہ ابھی ایک مجوزہ قانونی فریم ورک ہے، نافذ شدہ قانون نہیں۔ پارلیمان سے منظوری کے بعد ہی نئی گورننس دفعات مؤثر ہوں گی۔ حکومت کا مقصد آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اصلاحاتی تقاضے پورے کرنا بتایا گیا ہے، جبکہ مجوزہ تقرری کے طریقہ کار سے بورڈ کی خودمختاری اور حکومتی نگرانی کے توازن پر بحث پیدا ہونے کا امکان ہے۔
