اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 29 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے جبکہ پٹرول کی موجودہ قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق نئی قیمتیں 31 اکتوبر 2026 سے نافذ ہوئیں اور اس بار قیمتوں کا اعلان معمول کے پندرہ روزہ دورانیے کے بجائے تین دن کے لیے کیا گیا ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل پاکستان میں مال برداری، بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور بعض صنعتی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے ڈیزل کی قیمت میں تبدیلی کا اثر صرف پمپ پر صارف کی ادائیگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ سامان کی نقل و حمل، زرعی پیداوار اور کاروباری لاگت کے ذریعے وسیع معیشت تک منتقل ہو سکتا ہے۔ پٹرول کی قیمت برقرار رہنے سے موٹر سائیکل اور کار استعمال کرنے والے صارفین کو اس مختصر مدت میں اضافی قیمت کا سامنا نہیں ہوگا۔
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی صارف قیمت عالمی خام تیل اور تیار مصنوعات کی قیمتوں، روپے اور ڈالر کی شرح مبادلہ، فریٹ، ڈیلر و مارکیٹنگ مارجن اور حکومتی ٹیکس و لیوی جیسے عوامل سے بنتی ہے۔ ان میں سے کسی بھی جز میں تبدیلی اگلے قیمت جائزے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ حکومت وقتاً فوقتاً عالمی مارکیٹ اور مالی پالیسی کو دیکھتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ، کمی یا انہیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتی ہے۔
اس بار صرف تین دن کے لیے نئی قیمتوں کا نفاذ غیر معمولی مختصر مدت ہے، اس لیے صارفین اور کاروباروں کے لیے اگلا سرکاری اعلان خاص اہمیت رکھتا ہے۔ موجودہ فیصلے کو طویل مدتی قیمت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ اگلے جائزے میں عالمی تیل مارکیٹ اور شرح مبادلہ کی تازہ صورت حال کے مطابق نرخ دوبارہ تبدیل ہو سکتے ہیں۔
ڈیزل کی قیمت میں 2.29 روپے فی لیٹر اضافہ بظاہر محدود ہے، تاہم بڑے ٹرانسپورٹ آپریٹرز اور زرعی صارفین کے لیے مجموعی ایندھن خرچ پر اس کا اثر زیادہ ہو سکتا ہے۔ مہنگائی کی مجموعی سمت کے لیے بھی پٹرولیم نرخ اہم رہتے ہیں، کیونکہ ٹرانسپورٹ لاگت اشیائے خورونوش اور دیگر سامان کی قیمتوں میں شامل ہو سکتی ہے۔ فی الحال سرکاری فیصلے کے تحت پٹرول کی قیمت جوں کی توں ہے اور صرف ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخ میں اضافہ کیا گیا ہے۔
