اسلام آباد میں پارلیمانی فورم برائے توانائی و معیشت کے زیر اہتمام ہونے والے ایک پالیسی مکالمے میں ارکانِ پارلیمان اور توانائی ماہرین نے حکومت سے کہا ہے کہ ملک کی بدلتی ہوئی توانائی ضروریات کو دیکھتے ہوئے ایسے سخت طویل مدتی معاہدوں سے گریز کیا جائے جن میں طلب کم ہونے کے باوجود ادائیگی کی پابندی برقرار رہتی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں مائع قدرتی گیس، تیزی سے بڑھتی شمسی پیداوار، عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ اور صارفین کے لیے قابل برداشت قیمتوں کے باہمی تعلق پر گفتگو کی گئی۔

فورم کی کنوینر ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ گھروں اور دوسرے شعبوں میں شمسی نظام کے پھیلاؤ نے توانائی کے روایتی اندازِ فکر کو تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے ملک میں نصب شمسی صلاحیت کا تخمینہ 50 گیگاواٹ بتایا، تاہم یہ مکالمے میں پیش کیا گیا تخمینہ ہے اور اسے کسی نئے سرکاری شماریاتی اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پالیسی اور ضابطہ سازی کو اس نئی صورتِ حال سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے تاکہ مہنگے اور غیر لچک دار معاہدوں کے اثرات صارفین پر منتقل نہ ہوں۔

رکنِ قومی اسمبلی بیرسٹر دانیال چوہدری نے اس بحث کو صرف شمسی توانائی اور گیس میں سے کسی ایک کے انتخاب تک محدود نہ رکھنے کی بات کی۔ ان کا موقف تھا کہ شمسی پیداوار، گیس پائپ لائن، قومی گرڈ اور نئی ٹیکنالوجی کو ایک مربوط نظام میں دیکھنا ہوگا۔ اجلاس میں شریک ماہرین نے بھی کہا کہ بجلی اور گیس کی منصوبہ بندی الگ الگ رکھنے سے طلب، دستیابی اور لاگت کے درست اندازے مشکل ہو جاتے ہیں۔

اوگرا کے سابق رکن گیس محمد عارف نے توانائی کے انتظام کو باہم مربوط کرنے اور ایسے طریقے بنانے کی ضرورت پر زور دیا جن سے زیادہ شمسی پیداوار کے اوقات میں دستیاب اضافی بجلی کو مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکے۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے توانائی مشیر عاصم ریاض نے کہا کہ پاکستان کے لیے ایل این جی کا مسئلہ اب صرف رسد حاصل کرنے تک محدود نہیں رہا؛ طلب میں تبدیلی، معاہدوں کی لچک، قیمت اور مارکیٹ کا ڈھانچہ بھی یکساں اہم ہو گئے ہیں۔

توانائی امور کے مبصر سیب کینیڈی نے مکالمے میں رائے دی کہ پاکستان میں صارفین کی سطح پر توانائی کی تبدیلی سرکاری منصوبہ بندی سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھی ہے۔ ان کے مطابق بلند نرخ، غیر یقینی فراہمی اور شمسی آلات کی کم ہوتی قیمتوں نے صارفین کو متبادل کی طرف منتقل کیا۔ حما چغتائی نے پالیسی میں تسلسل، رسد و طلب کی واضح تصویر اور منصوبہ بندی ڈویژن کی زیادہ مؤثر نمائندگی کی ضرورت بیان کی۔

مکالمے میں دی گئی تجاویز پالیسی سفارشات ہیں؛ حکومت کی طرف سے کسی نئے معاہدے کی منسوخی، ایل این جی پالیسی میں فوری تبدیلی یا کسی مخصوص منصوبے کی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اسی طرح شمسی صلاحیت، طلب اور ممکنہ بچت سے متعلق بیانات مقررین کے اندازے اور آرا ہیں۔ آئندہ عملی پیش رفت کا تعین سرکاری فیصلوں، معاہدوں کی شرائط اور توانائی اداروں کے قابل تصدیق اعداد و شمار سے ہوگا۔