اسلام آباد: بجلی کے پاور ریگولیٹر نے جولائی 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت فی یونٹ 2 روپے 52 پیسے اضافے کی سی پی پی اے درخواست پر سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی 28 اگست کی رپورٹ کے مطابق درخواست منظور ہونے کی صورت میں اس کا اثر ستمبر کے بجلی بلوں میں آ سکتا ہے، تاہم اس مرحلے پر کوئی حتمی اضافہ منظور یا نافذ نہیں ہوا۔

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے جولائی میں بجلی کی پیداوار پر آنے والی ایندھن لاگت کی بنیاد پر یہ درخواست دائر کی تھی۔ سماعت کے دوران پیش اعداد و شمار کی بنیاد پر رپورٹ میں ممکنہ اضافی وصولی کا موجودہ تخمینہ 36 ارب 54 کروڑ روپے بتایا گیا ہے۔ اس سے پہلے جی ایس ٹی سمیت تقریباً 41 ارب روپے کا تخمینہ سامنے آیا تھا، لیکن ریگولیٹری جائزے کے بعد زیر بحث رقم کم بتائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق جولائی میں درآمدی ایل این جی سے مجموعی بجلی کا 10.78 فیصد پیدا کیا گیا اور اس ذریعے کی فی یونٹ لاگت 47 روپے 37 پیسے رہی۔ ایل این جی سے پیداوار پر تقریباً 77 ارب 19 کروڑ روپے خرچ ہونے کا ڈیٹا پیش کیا گیا۔ یہ اعداد سماعت اور رپورٹ میں دی گئی پیداواری لاگت کی تفصیل ہیں؛ ان کی بنیاد پر صارفین کے لیے حتمی شرح ریگولیٹر کے تحریری فیصلے سے ہی طے ہوگی۔

فرنس آئل سے جولائی میں 1.42 فیصد بجلی پیدا ہونے اور اس کی فی یونٹ لاگت 50 روپے 7 پیسے رہنے کی اطلاع دی گئی۔ ڈیزل سے تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی گئی، جس کی فی یونٹ لاگت 54 روپے 47 پیسے بتائی گئی۔ مہنگے ذرائع کے استعمال کو سی پی پی اے نے اضافی فیول لاگت کی درخواست کی وجہ کے طور پر پیش کیا ہے۔

دوسری طرف پانی سے بجلی کی پیداوار کا حصہ 39.81 فیصد، مقامی کوئلے کا 10.91 فیصد، درآمدی کوئلے کا 14.38 فیصد اور جوہری ذرائع کا 10.10 فیصد بتایا گیا۔ رپورٹ میں جوہری بجلی کی فی یونٹ لاگت 3 روپے 2 پیسے درج ہے۔ مختلف ذرائع کے حصے اور لاگت مجموعی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے حساب میں استعمال ہوتے ہیں، لیکن ہر صارف کی حتمی ادائیگی کا انحصار ریگولیٹر کے فیصلے، قابل اطلاق صارف زمروں اور بلنگ قواعد پر ہوگا۔

اہم بات یہ ہے کہ ریگولیٹر نے ابھی صرف فیصلہ محفوظ کیا ہے۔ 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ اور 36.54 ارب روپے دونوں مجوزہ یا متوقع اعداد ہیں، منظور شدہ وصولی نہیں۔ فیصلے کے اجرا کے بعد ہی واضح ہوگا کہ درخواست مکمل طور پر منظور ہوئی، اس میں کمی کی گئی، یا بعض صارف زمروں کو الگ رکھا گیا۔

اردو ہیڈلائنز حتمی حکم یا نوٹیفکیشن سامنے آنے پر اسی واقعے کے ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کرے گا۔ موجودہ خبر کو بجلی کی قیمت میں نافذ شدہ اضافے کے بجائے ایک زیر غور ماہانہ ایڈجسٹمنٹ اور محفوظ فیصلے کے طور پر پڑھا جائے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک