اسلام آباد: سپریم کورٹ نے گھی اور کوکنگ آئل بنانے والے مسابقتی کاروباری اداروں کی جانب سے مشترکہ طور پر قیمتیں طے کرنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی پرائس فکسنگ فائنڈنگ برقرار رکھی ہے۔ ایکسپریس اردو کی 27 اگست کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کو تین کروڑ روپے جرمانہ جمع کرانے کی ہدایت بھی برقرار رکھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کمپٹیشن کمیشن اور کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل کے مؤقف کی توثیق کی۔ عدالت کے مطابق گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں کا اجتماعی تعین کمپٹیشن ایکٹ کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی ہے۔ فیصلے میں بنیادی نکتہ یہ رکھا گیا کہ ایک دوسرے سے مسابقت کرنے والے کاروباری اداروں کو اپنی تجارتی ضروریات اور لاگت کے مطابق قیمتیں آزادانہ طور پر طے کرنا ہوں گی۔
عدالت نے واضح کیا کہ تجارتی ایسوسی ایشن کے ذریعے قیمت طے کرنا بھی مسابقت کو محدود کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فیصلے میں کہا گیا کہ اگر اجتماعی طور پر مقرر کی گئی قیمت کم بھی ہو اور وقتی طور پر صارفین کے لیے فائدہ مند دکھائی دے، تب بھی مسابقتی اداروں کا باہمی اتفاق سے قیمت مقرر کرنا قانونی طور پر درست نہیں ہوجاتا۔ اسی طرح عوامی مفاد کا حوالہ اجتماعی پرائس فکسنگ کو جائز قرار دینے کے لیے کافی نہیں سمجھا گیا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مشترکہ قیمت آزادانہ مسابقتی قیمتوں کی جگہ نہیں لے سکتی۔ رپورٹ کے مطابق قیمتوں کے معاملے میں متعلقہ مسابقتی قانون اور ریگولیٹری طریقہ کار اختیار کرنا ضروری تھا، جبکہ کمپٹیشن کمیشن کو نظرانداز کرکے ایسوسی ایشن کے ساتھ اجتماعی قیمت سازی کی مشاورت قانون کی خلاف ورزی کا باعث بنی۔ عدالت نے اس بنا پر سی سی پی اور اپیلیٹ ٹربیونل کے بنیادی نتائج کی توثیق کی۔
اس فیصلے کا فوری قانونی اثر زیر سماعت تنازع اور پی وی ایم اے کے خلاف موجود فائنڈنگ و جرمانے سے متعلق ہے۔ دستیاب رپورٹ میں کسی مخصوص برانڈ کی نئی قیمت، مارکیٹ میں فوری کمی یا اضافے، یا صارفین کو رقم کی واپسی کا حکم درج نہیں۔ اس لیے فیصلے کو بازار میں قیمتوں کے یقینی ردوبدل کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا؛ آئندہ قیمتوں کا تعین کاروباری لاگت، رسد، طلب اور قابل اطلاق سرکاری ضابطوں کے تحت ہوگا۔
یہ خبر ایکسپریس اردو کی براہ راست دیکھی گئی تفصیلی رپورٹ پر مبنی ہے۔ عدالت کی فائنڈنگ، جرمانے اور قانونی اصول کو رپورٹ میں بیان کردہ حدود کے اندر پیش کیا گیا ہے، اور فیصلے سے باہر کسی مالی یا مارکیٹ نتیجے کا مفروضہ شامل نہیں کیا گیا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




