کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2025-26 کے سالانہ مالیاتی گوشوارے جاری کر دیے ہیں جن کے مطابق مرکزی بینک نے 1,990 ارب روپے خالص منافع کمایا۔ ڈان کی 28 اگست کی رپورٹ میں اسٹیٹ بینک کے بیان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اکاؤنٹنگ فریم ورک اور قانونی تقاضوں کے تحت ضروری رقوم مختص کرنے کے بعد 1,932 ارب روپے کا فاضل منافع وفاقی حکومت کو منتقل کیا گیا۔

گزشتہ مالی سال میں اسٹیٹ بینک کا منافع 2.5 ٹریلین روپے بتایا گیا تھا، اس لیے تازہ عدد سال بہ سال کمی ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ نے اس تبدیلی کو مالیاتی پالیسی میں نرمی کے پس منظر سے جوڑا ہے۔ چند سال پہلے بلند ترین سطح پر 22 فیصد تک پہنچنے والی پالیسی شرح مختلف مراحل میں کم ہو کر 11.5 فیصد رہ گئی ہے۔ مرکزی بینک کی آمدن کا تعلق اس کے مالی اثاثوں، حکومتی قرضوں اور شرح سود کے ماحول سے ہوتا ہے، لہٰذا شرح میں کمی منافع کی رفتار پر اثر ڈال سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے منتقل کیا گیا فاضل منافع وفاقی حکومت کی غیر ٹیکس آمدن میں شامل ہوتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں مرکزی بینک سے بڑی رقوم ملنے سے حکومت کو مالی خسارے اور اندرونی قرض گیری کے انتظام میں مدد ملی۔ تاہم اسے ٹیکس وصولی نہیں سمجھنا چاہیے اور نہ ہی اس ایک رقم سے حکومتی مالی پوزیشن کی مکمل تصویر اخذ کی جا سکتی ہے، کیونکہ بجٹ کے نتائج میں ٹیکس آمدن، اخراجات، قرض کی خدمت اور دوسری غیر ٹیکس وصولیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔

سالانہ گوشواروں سے متعلق رپورٹ میں اندرونی قرض کے اعداد بھی دیے گئے ہیں۔ مالی سال کے اختتام پر ملکی داخلی قرض 59.94 ٹریلین روپے تک پہنچا، جو ایک سال میں 9 فیصد یا تقریباً 4.969 ٹریلین روپے کا اضافہ ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں طویل مدت کے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کے ذریعے حاصل قرض میں اضافہ جبکہ قلیل مدت کے مارکیٹ ٹریژری بلز میں کمی دیکھی گئی۔ یہ قرض کے دورانیے میں تبدیلی کی نشاندہی ہے، قرض کے مجموعی بوجھ کے خاتمے کی نہیں۔

زرمبادلہ ذخائر کے تازہ ہفتہ وار اعداد کے مطابق 21 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملک کے مجموعی مائع ذخائر 22.587 ارب ڈالر تھے۔ ان میں اسٹیٹ بینک کے پاس 17.098 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے پاس 5.488 ارب ڈالر موجود تھے۔ مرکزی بینک کے ذخائر میں اس ہفتے 17 ملین ڈالر کا اضافہ رپورٹ کیا گیا۔ ذخائر کے یہ اعداد سالانہ منافع سے الگ پیمانہ ہیں اور دونوں کو ایک ہی مالی نتیجہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

ڈان کی رپورٹ نے مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث توانائی قیمتوں اور مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ معاشی خطرات مستقبل کی شرح سود اور مرکزی بینک کی آمدن کو متاثر کر سکتے ہیں، لیکن تازہ گوشوارے صرف مکمل ہو چکے مالی سال کے حسابات پیش کرتے ہیں۔ اس خبر کا تصدیق شدہ مرکزی نکتہ خالص منافع، قانونی مختصات کے بعد وفاق کو منتقل فاضل رقم اور جاری کردہ مالیاتی اعداد ہیں؛ آئندہ منافع یا شرح سود کے راستے کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ رپورٹ میں نہیں دیا گیا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک