اسلام آباد: پاکستان بار کونسل کے آٹھ ارکان نے کونسل، اس کی کمیٹیوں اور ٹربیونلز کی کارروائیوں، مباحث اور ریکارڈ کو عمومی طور پر خفیہ قرار دینے کی مجوزہ ترمیم کی مخالفت کر دی ہے۔ اختلاف کرنے والے ارکان نے پاکستان بار کونسل کے سیکریٹری کو خط بھیجا ہے، جس کی نقل اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان کو بھی دی گئی۔ اٹارنی جنرل اپنے منصب کے باعث کونسل کے چیئرمین ہوتے ہیں۔ مجوزہ ترمیم ابھی حتمی طور پر نافذ شدہ قاعدہ نہیں؛ دستیاب اطلاع کے مطابق اسے کونسل کے اندر منظوری کے لیے گردش میں لایا گیا ہے۔
اعتراض کرنے والوں میں عابد شاہد زبیری، محمد مقصود بٹر، محمد شفقت محمود چوہان، منیر احمد کاکڑ، عبدالستار خان، سلمان اکرم راجہ، صلاح الدین احمد اور قاضی محمد ارشد شامل ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ وکلا کے اعلیٰ ریگولیٹری ادارے کا کام عوامی اعتماد، پیشہ ورانہ جواب دہی اور کھلے ادارہ جاتی عمل سے جڑا ہے، اس لیے معمول کی کارروائیوں پر وسیع اور غیر معین رازداری عائد کرنا کونسل کے کردار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یہ ان ارکان کا قانونی و ادارہ جاتی مؤقف ہے، کسی عدالت کی حتمی تشریح نہیں۔
مجوزہ تبدیلی پاکستان لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز رولز 1976 کے رول 97 کے بعد نیا رول 97-اے شامل کرنے سے متعلق ہے۔ رپورٹ شدہ متن کے مطابق پاکستان بار کونسل، اس کی کمیٹیوں، ٹربیونلز، ذیلی کمیٹیوں اور دوسرے قائم کردہ فورمز کے تمام افعال، کارروائیاں، مشاورت اور کاروبار کو خفیہ یا درجہ بند تصور کیا جائے گا، اور معلومات صرف مجاز اجازت کے بعد ظاہر کی جا سکیں گی۔ اس دائرے میں الیکٹرانک ریکارڈ، ای میلز، آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگز، فائلیں، تصاویر، نقول اور دوسرے دستاویزی مواد کو بھی شامل کرنے کی تجویز ہے۔
مخالف ارکان نے رازداری کی ہر صورت کو یکسر رد نہیں کیا۔ ان کے خط کے مطابق بعض انضباطی کارروائیوں، ذاتی معلومات یا ایسے معاملات میں محدود تحفظ قابلِ جواز ہو سکتا ہے جہاں کسی فریق کی نجی زندگی یا منصفانہ سماعت متاثر ہونے کا حقیقی خطرہ ہو۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ مخصوص استثنا اور پورے ادارے کے کام کو اصولاً خفیہ قرار دینے میں بنیادی فرق ہے۔ ان کے مطابق مجوزہ زبان ضرورت سے زیادہ وسیع ہے اور یہ واضح نہیں کرتی کہ کون سی معلومات، کس مدت کے لیے، کس نقصان سے بچنے کی غرض سے اور کس افسر کی منظوری پر روکی جائیں گی۔
ترمیم کو کونسل کے قواعد کے رول 91 کے تحت سرکلر قرارداد کے ذریعے منظور کرنے کی کوشش پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے۔ اختلاف کرنے والے ارکان کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ ہنگامی نوعیت کے معاملات میں استعمال کیا جا سکتا ہے، مگر موجودہ تجویز کے لیے کسی فوری ہنگامی حالت کی وضاحت نہیں کی گئی۔ ان کا مزید مؤقف ہے کہ رولز کمیٹی ایسی بنیادی پالیسی تبدیلی کو مکمل کونسل کے باضابطہ اجلاس، بحث اور ریکارڈ شدہ ووٹ کے بغیر حتمی شکل نہیں دے سکتی۔ اس طریقۂ کار کی قانونی حیثیت پر ابھی کوئی عدالتی فیصلہ رپورٹ نہیں ہوا۔
خط میں آئین کے آرٹیکل 19 اور 19-اے کا حوالہ دیتے ہوئے اظہار اور معلومات تک رسائی کے حقوق پر ممکنہ اثر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ارکان کے مطابق عوام، وکلا اور بار ایسوسی ایشنوں کو یہ جاننے کا جائز مفاد حاصل ہے کہ کونسل پیشہ ورانہ ضابطوں، مالی معاملات، انتخابات اور انضباطی پالیسیوں پر کس طرح فیصلہ کرتی ہے۔ دوسری جانب کسی ادارے کو قانونی طور پر مخصوص حساس معلومات محفوظ رکھنے کا اختیار ہو سکتا ہے، مگر اس اختیار کی حدود، مقصد اور اپیل یا نظرثانی کا راستہ واضح ہونا چاہیے۔
تازہ پیش رفت کا حتمی مطلب یہ نہیں کہ ترمیم ختم ہو گئی یا نافذ ہو چکی ہے۔ قابلِ تصدیق نتیجہ یہ ہے کہ آٹھ ارکان نے تحریری اختلاف ریکارڈ کرایا، سرکلر طریقۂ منظوری اور وسیع رازداری کی زبان پر اعتراض کیا، اور معاملہ مکمل کونسل کے سامنے کھلی بحث کے لیے لانے کا مطالبہ کیا۔ آئندہ مرحلے میں کونسل تجویز واپس لے سکتی، متن محدود کر سکتی، باضابطہ اجلاس میں ووٹنگ کرا سکتی یا موجودہ مسودہ برقرار رکھنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ قواعد کی اصل قانونی حیثیت حتمی منظوری، نوٹیفکیشن اور کسی ممکنہ عدالتی جانچ کے بعد ہی واضح ہوگی۔




