پاکستان بار کونسل کے آٹھ ارکان نے کونسل اور اس کی کمیٹیوں کی کارروائی، غور و خوض اور کاروبار کو عمومی طور پر خفیہ قرار دینے والی مجوزہ ترمیم کی مخالفت کردی ہے۔ ڈان کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق ارکان نے سیکریٹری پاکستان بار کونسل کو مشترکہ خط لکھ کر مجوزہ رول 97-اے مسترد کرنے کا مؤقف اختیار کیا اور خط کی نقل اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان کو بھی بھیجی۔ یہ ارکان کا اعتراض ہے؛ مجوزہ ضابطہ ابھی حتمی طور پر منظور یا نافذ نہیں ہوا۔

خط پر عابد شاہد زبیری، محمد مقصود بٹر، محمد شفقت محمود چوہان، منیر احمد کاکڑ، عبدالستار خان، سلمان اکرم راجہ، صلاح الدین احمد اور قاضی محمد ارشد کے نام درج ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مجوزہ رول کا دائرہ پاکستان بار کونسل اور اس کی مختلف کمیٹیوں کے افعال، کارروائی، مشاورت اور کاروبار تک پھیلایا گیا تھا۔ مخالف ارکان کا کہنا ہے کہ ایسی وسیع زبان معمول کی پالیسی، انتظامی اور نمائندہ سرگرمیوں کو بھی عوامی جانچ سے باہر کرسکتی ہے۔

ارکان نے اس طریقۂ کار پر بھی اعتراض کیا جس کے ذریعے تجویز کو سرکلر قرارداد کے طور پر پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق پاکستان بار کونسل رولز کے رول 91 کے تحت سرکلر طریقہ غیر معمولی یا فوری حالات میں استعمال ہونا چاہیے، جبکہ اس معاملے میں مکمل اجلاس، بحث اور ووٹنگ کا راستہ اختیار کیا جانا مناسب تھا۔ یہ قانونی و ضابطہ جاتی تشریح خط لکھنے والے ارکان کی ہے؛ اس کے درست ہونے یا کسی حتمی طریقۂ کار کی خلاف ورزی کا فیصلہ مجاز فورم یا کونسل کی باقاعدہ کارروائی سے ہوگا۔

مشترکہ خط میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ بار کونسل قانونی پیشے کی منتخب ضابطہ کار تنظیم ہے اور اس کے فیصلے وکلا، عدالتی نظام اور عوامی مفاد پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ اسی بنا پر ارکان نے شفاف بحث، قراردادوں کے ریکارڈ اور فیصلہ سازی تک مناسب عوامی رسائی کو ادارے کی جواب دہی کے لیے ضروری قرار دیا۔ انہوں نے مجوزہ رازداری کو آئین کے آرٹیکل 19 اور 19-اے میں بیان کردہ اظہار اور معلومات تک رسائی کے حقوق سے متصادم قرار دیا، تاہم یہ ان کا آئینی اعتراض ہے اور کسی عدالت نے اس مخصوص تجویز پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔

رپورٹ کے مطابق مخالف ارکان نے یہ تجویز دی کہ حساس یا قانونی طور پر محفوظ معلومات کے لیے محدود اور واضح استثنا رکھا جاسکتا ہے، لیکن ہر کارروائی کو ایک ہی عمومی اصول کے تحت خفیہ بنانا متناسب نہیں ہوگا۔ کونسل کے کام میں بعض معاملات، مثلاً انضباطی شکایات، ذاتی ریکارڈ یا زیر غور قانونی حکمت عملی، رازداری کا تقاضا کرسکتے ہیں؛ دوسری جانب عمومی پالیسی اور ادارہ جاتی فیصلوں کے لیے شفافیت کی ضرورت الگ ہوسکتی ہے۔ حتمی ضابطہ بناتے وقت ان دونوں مفادات کا توازن کونسل کو طے کرنا ہوگا۔

مجوزہ ترمیم کے حامیوں کا تفصیلی سرکاری مؤقف ڈان کی دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں تھا، اس لیے اس کے مقصد کو قیاس کی بنیاد پر بیان نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ سرکلر قرارداد پر ووٹنگ کی آخری تاریخ کیا تھی، کتنے ارکان نے حمایت کی یا کونسل کا مکمل اجلاس اس معاملے پر کب ہوگا۔ ان معلومات کے بغیر ترمیم کے منظور ہونے یا ناکام ہونے کے بارے میں حتمی نتیجہ نکالنا قبل از وقت ہوگا۔

پاکستان بار کونسل وکلا کے پیشہ ورانہ ضابطے، قانونی تعلیم، بار اداروں اور عدالتی و قانونی پالیسی کے کئی معاملات میں کردار ادا کرتی ہے۔ اسی وجہ سے اس کے اندر فیصلہ سازی کی شفافیت سے متعلق تنازع صرف داخلی انتظام تک محدود نہیں رہتا بلکہ قانونی برادری اور معلومات تک رسائی کے وسیع سوالات سے بھی جڑتا ہے۔ اس کے باوجود موجودہ پیش رفت ایک داخلی تجویز اور منتخب ارکان کی مخالفت ہے، کسی نافذ شدہ پابندی یا عدالتی حکم کی خبر نہیں۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت آٹھ ارکان کا مشترکہ خط، رول 97-اے کے مجوزہ متن پر ان کا اعتراض اور سرکلر قرارداد کے طریقے کی مخالفت ہے۔ ترمیم کی حتمی حیثیت، کونسل کی اکثریتی رائے اور کسی نظر ثانی شدہ متن کا تعین پاکستان بار کونسل کی آئندہ باقاعدہ کارروائی سے ہوگا۔