پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن، ریڈیو پاکستان، نادرا کی ڈیجیٹل پنشنر ویریفیکیشن ایپ کے ساتھ منسلک ہونے والا پہلا پبلک سیکٹر کارپوریشن اور سرکاری ملکیتی ادارہ بن گیا ہے۔ اس انضمام کے بعد ادارے کے 3 ہزار 681 موجودہ پنشنرز دور سے بایومیٹرک یا چہرے کی شناخت کے ذریعے اپنی ’پروف آف لائف‘ تصدیق مکمل کر سکیں گے۔

روایتی نظام میں پنشنرز کو وقفے وقفے سے بینک یا سرکاری دفتر جا کر اپنی زندگی کی تصدیق کرانا پڑتی ہے تاکہ پنشن ادائیگی جاری رہے۔ نئی سہولت خاص طور پر عمر رسیدہ، بیمار یا سفر میں مشکل رکھنے والے افراد کے لیے اس عمل کو آسان بنا سکتی ہے۔

پی بی سی نے 2025 میں اپنا پنشن مینجمنٹ سسٹم ڈیجیٹل کیا تھا اور چند ماہ قبل نادرا کے ساتھ ریکارڈ کی ہم آہنگی مکمل کی۔ اس تیاری کی وجہ سے نادرا کی پروف آف لائف ایپ فعال ہوتے ہی پی بی سی کے پنشنرز اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہوئے۔

ڈیجیٹل تصدیق کا مقصد درست پنشن ریکارڈ برقرار رکھنا، جعلی یا دوہرے دعوے روکنا اور تصدیق میں تاخیر کے باعث ادائیگی رکنے کے مسائل کم کرنا بھی ہے۔ تاہم ایسے نظام میں ڈیٹا تحفظ، شناختی معلومات کی حفاظت اور ایسے افراد کے لیے متبادل طریقہ ضروری ہے جنہیں اسمارٹ فون یا بایومیٹرک تصدیق میں مشکل ہو۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اگست میں نادرا کے قومی پروف آف لائف نظام کے آغاز پر کہا تھا کہ اس سے لاکھوں پنشنرز کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ پی بی سی کا انضمام اس نظام کا ابتدائی ادارہ جاتی استعمال ہے۔ اگر یہ ماڈل مؤثر ثابت ہوتا ہے تو دیگر سرکاری ادارے اور ایس او ایز بھی اسی پلیٹ فارم سے منسلک ہو سکتے ہیں، جس سے پنشن انتظامیہ میں کاغذی کارروائی اور جسمانی حاضری کی ضرورت کم ہوگی۔