لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ نے پیر کو تصدیق کی ہے کہ نظم و ضبط اور کھلاڑیوں کے رویے سے متعلق سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے بعد ایک داخلی انکوائری شروع کی گئی ہے۔ ڈان کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی جب مختلف رپورٹس میں سابق ٹیسٹ اسکواڈ کے ارکان امام الحق اور محمد رضوان سے متعلق تحقیقات کا ذکر کیا گیا، تاہم پی سی بی نے اپنے سرکاری بیان میں دونوں کھلاڑیوں کے نام نہیں لیے اور نہ ہی کسی مخصوص خلاف ورزی کی تصدیق کی۔
پی سی بی کے میڈیا ڈائریکٹر عامر میر نے کہا کہ بورڈ ان معاملات کا جائزہ اپنے قواعد و ضوابط اور معمول کے طریقہ کار کے تحت لے رہا ہے۔ ان کے مطابق تمام متعلقہ افراد کو مناسب موقع دیا جائے گا اور انکوائری کے دوران غیر مصدقہ یا قیاس آرائی پر مبنی دعووں کو حقیقت نہ سمجھا جائے۔ بورڈ نے اس مرحلے پر مزید تفصیلات جاری کرنے سے گریز کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ کے بعد امام الحق اور محمد رضوان کے موبائل فون عارضی طور پر ٹیم سکیورٹی اہلکار کے پاس لیے گئے اور ان کے ڈیٹا سے متعلق کارروائی کی گئی۔ پی سی بی نے ان مخصوص دعووں کی تصدیق نہیں کی۔ اس لیے فون ضبط کرنے یا ڈیٹا منتقل کیے جانے سے متعلق تفصیلات کو محض رپورٹ شدہ دعووں کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ ثابت شدہ حقیقت کے طور پر۔
یہ انکوائری ایسے ماحول میں شروع ہوئی ہے جب پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم انگلینڈ کے ہاتھوں مسلسل دو بھاری شکستوں کے بعد شدید دباؤ میں ہے۔ پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو اننگز اور 103 رنز جبکہ دوسرے میں 194 رنز سے شکست ہوئی، جس کے بعد بورڈ نے سات کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے ریلیز کیا اور کوچنگ اسٹاف میں بھی تبدیلیاں کیں۔ امام الحق اور محمد رضوان انہی کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں تیسرے ٹیسٹ سے پہلے ٹیم سے باہر کیا گیا۔
امام الحق کی لارڈز ٹیسٹ میں انجری اور دونوں اننگز میں بیٹنگ نہ کرنے کا معاملہ بھی پہلے سے زیر بحث تھا اور سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے اس پر انکوائری کی ضرورت ظاہر کی تھی۔ تاہم موجودہ داخلی تفتیش کی نوعیت اور دائرہ کار کے بارے میں پی سی بی نے واضح تفصیل فراہم نہیں کی۔ کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی، ذمہ داری یا سزا کا تعین انکوائری مکمل ہونے اور بورڈ کے باضابطہ فیصلے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔




