لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کے بعض کھلاڑیوں سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس پر داخلی تادیبی انکوائری شروع کر دی ہے۔ جیو نیوز کے مطابق پی سی بی کے مشیر امیر میر نے اس بات کی تصدیق کی کہ بورڈ کے اندر ایک ڈسپلنری انکوائری جاری ہے، تاہم پی سی بی نے اس مرحلے پر تحقیقات کی نوعیت، ممکنہ خلاف ورزی یا کسی کھلاڑی کے خلاف حتمی نتیجے کی تفصیل جاری نہیں کی۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ انکوائری کے سلسلے میں امام الحق اور محمد رضوان کے موبائل فونز سے ڈیٹا حاصل کیا گیا۔ یہ بات ذرائع سے منسوب ہے اور دستیاب رپورٹ میں پی سی بی کی جانب سے اس مخصوص دعوے کی الگ، تفصیلی سرکاری توثیق شامل نہیں تھی۔ اسی لیے اسے کسی جرم، ضابطہ شکنی یا قصور کے ثابت ہونے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
پی سی بی نے مزید تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے تحقیقات کو داخلی معاملہ قرار دیا۔ کسی انکوائری کا آغاز خود بخود الزام ثابت ہونے کے برابر نہیں ہوتا؛ تادیبی کارروائی میں عموماً متعلقہ معلومات، دستیاب شواہد اور ضابطوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی یہ طے کیا جاتا ہے کہ آیا کسی ضابطے کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔ جیو نیوز کی رپورٹ میں کسی سزا، شوکاز نوٹس یا حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
قومی کرکٹ ٹیم سے متعلق داخلی تحقیقات اس لیے اہم سمجھی جاتی ہیں کہ بورڈ کے ضابطہ اخلاق، ٹیم نظم و ضبط اور کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں براہ راست قومی ٹیم کے انتظامی ماحول سے جڑی ہوتی ہیں۔ تاہم جاری تحقیقات کے دوران غیر مصدقہ دعووں کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں، خصوصاً جب بورڈ خود تفصیلات محدود رکھ رہا ہو۔
امام الحق اور محمد رضوان پاکستان کے معروف بین الاقوامی کرکٹرز ہیں، لیکن دستیاب خبر میں ان کے خلاف کسی باقاعدہ الزام کی مکمل تفصیل یا قصور ثابت ہونے کی اطلاع نہیں دی گئی۔ اس لیے دونوں کھلاڑیوں کا ذکر صرف انہی رپورٹس اور ذرائع کے دعوے کے تناظر میں کیا جا رہا ہے جن پر پی سی بی نے داخلی انکوائری شروع کی ہے۔
اب اہم بات یہ ہوگی کہ پی سی بی تحقیقات مکمل ہونے پر باضابطہ نتائج جاری کرتا ہے یا معاملہ داخلی سطح پر نمٹا دیا جاتا ہے۔ جب تک بورڈ کسی نتیجے، خلاف ورزی یا سزا کی سرکاری تصدیق نہ کرے، موجودہ پیش رفت کو صرف جاری تادیبی انکوائری کے طور پر ہی بیان کیا جا سکتا ہے۔




