لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کی فرنچائزز میں طویل مدتی کرکٹ ترقیاتی کام کی حوصلہ افزائی کے لیے 200,000 ڈالر مالیت کا نیا کرکٹ ڈویلپمنٹ ایکسیلنس ایوارڈ متعارف کرایا ہے۔ پی سی بی کے مطابق افتتاحی ایوارڈ میں لیگ کے تیسرے ایڈیشن سے 11ویں ایڈیشن تک فرنچائزز کی جانب سے کھلاڑیوں کی تیاری، گراس روٹس سرگرمیوں، پیشہ ورانہ نظام اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

بورڈ کا کہنا ہے کہ ایوارڈ کا مقصد ایسی سرمایہ کاری کو تسلیم کرنا ہے جو محض ایک سیزن تک محدود نہ ہو بلکہ پاکستان کرکٹ کے لیے قابل پیمائش اور دیرپا فائدہ پیدا کرے۔ افتتاحی مرحلے میں ہر فرنچائز پی ایس ایل کے تیار کردہ اسکورنگ ماڈل کے مطابق اپنی کارکردگی کا ابتدائی جائزہ خود تیار کرے گی اور اس کے ساتھ ثبوت اور متعلقہ ڈیٹا جمع کرائے گی۔

پی سی بی کی تشکیل کردہ پانچ رکنی اسیسمنٹ کمیٹی، جس میں آزاد ماہرین اور بورڈ کے متعلقہ نمائندے شامل ہوں گے، فرنچائزز کے دعووں اور اسکور کو قابل تصدیق شواہد کی بنیاد پر جانچے گی۔ کمیٹی کی جانچ حتمی اسکور کا 80 فیصد ہوگی، جبکہ باقی 20 فیصد مداحوں کے ووٹ سے طے ہوگا۔ فین ووٹ سے پہلے فرنچائزز اپنی ترقیاتی سرگرمیوں کی پریزنٹیشن پی ایس ایل کے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شائع کریں گی۔

اسکورنگ ماڈل میں سب سے زیادہ 25 فیصد وزن کھلاڑیوں کے راستے اور ترقی کو دیا گیا ہے۔ گراس روٹس اور ڈومیسٹک کرکٹ سے رابطے کا حصہ 20 فیصد، ہائی پرفارمنس انفراسٹرکچر اور جدت کا 15 فیصد، کھلاڑیوں کے اثر اور میچ میں کردار کا 10 فیصد اور پلیئر ویلفیئر و تعلیم کا 10 فیصد رکھا گیا ہے۔ باقی 20 فیصد مداحوں کی رائے پر مشتمل ہوگا۔

کھلاڑیوں کی ترقی کے زمرے میں نئے یا ان کیپڈ کرکٹرز کی شناخت، ان کی پیش رفت اور پی ایس ایل سے باہر انہیں ملنے والے مسابقتی مواقع کا جائزہ ہوگا۔ انفراسٹرکچر اور جدت میں سہولتیں، کوچنگ و معاون عملہ، نظام اور ٹیکنالوجی شامل ہوں گے۔ فلاح اور تعلیم کے شعبے میں مالی آگاہی، تعلیمی مدد، ذہنی صحت کے نظام، میڈیا ٹریننگ، اینٹی ڈوپنگ، اینٹی کرپشن تعلیم اور کیریئر منتقلی کے منصوبے دیکھے جائیں گے۔

گراس روٹس زمرے میں مردوں اور خواتین کی کرکٹ، بچوں کے کوچنگ کلینکس، اسکول اور کلب پروگرام اور پی سی بی کے ڈومیسٹک ڈھانچے سے شمولیت شامل ہوگی۔ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ آئندہ برسوں میں طریقہ کار تبدیل ہوگا اور 11ویں ایڈیشن کے بعد ہر سال صرف دو تازہ ترین پی ایس ایل ایڈیشنز کے درمیان کیے گئے ترقیاتی کام کو جانچا جائے گا۔ اسیسمنٹ کمیٹی کی مکمل تفصیلات اور فین ووٹنگ کا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔