اسلام آباد: پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز نے ملک کے مختلف شہروں میں فروخت ہونے والے بوتل بند اور منرل واٹر کی سہ ماہی نگرانی کے نتائج جاری کرتے ہوئے 27 برانڈز کو انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ قرار دیا ہے۔ رپورٹ جولائی سے ستمبر 2026 کی مدت کا احاطہ کرتی ہے اور اس میں پانی کے نمونوں کی کیمیائی اور جراثیمی معیار کے مطابق جانچ کی گئی۔
کونسل نے 20 بڑے شہروں سے مجموعی طور پر 223 برانڈز کے نمونے حاصل کیے۔ جانچ پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے مقرر کردہ معیار کے تناظر میں کی گئی۔ نتائج کے مطابق بیشتر نمونے مطلوبہ معیار پر پورے اترے، تاہم 27 برانڈز میں کم از کم ایک ایسا مسئلہ سامنے آیا جس کی بنیاد پر انہیں پینے کے لیے غیر محفوظ قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں کیمیائی آلودگی کے مختلف اسباب کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بعض نمونوں میں سوڈیم کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ پائی گئی، جبکہ ایک برانڈ میں ٹوٹل ڈیزالوڈ سالڈز کی سطح بھی مقررہ حد سے بلند ریکارڈ ہوئی۔ کچھ نمونوں میں آرسینک کی مقدار قابل قبول حد سے تجاوز کر گئی اور ایک نمونے میں پوٹاشیم کی سطح بھی معیار سے زیادہ بتائی گئی۔ یہ نتائج متعلقہ نمونوں کے لیبارٹری ٹیسٹ سے منسلک ہیں اور تمام بوتل بند پانی کے برانڈز پر عمومی طور پر لاگو نہیں ہوتے۔
جراثیمی جانچ میں 22 برانڈز کے نمونے بیکٹیریا سے آلودہ پائے گئے۔ کونسل نے واضح کیا کہ جراثیمی آلودگی پینے کے پانی کے لیے صحت کا خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے صارفین تازہ سہ ماہی رپورٹ میں درج معیار اور برانڈ کی حیثیت دیکھ کر خریداری کریں۔ کیمیائی اور جراثیمی طور پر غیر محفوظ برانڈز کی تعداد میں باہمی تداخل موجود ہے، اس لیے دونوں زمروں کی تعداد کو جمع کر کے کل تعداد اخذ نہیں کی جا سکتی۔
نمونے اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، ملتان، سرگودھا، ساہیوال، فیصل آباد، کوئٹہ، ٹنڈو جام، گوجرانوالہ، بدین، سیالکوٹ، ڈیرہ اسماعیل خان، بہاولپور، کراچی، لاہور، میانوالی، مظفرآباد، گلگت اور سکھر سمیت مختلف شہروں سے لیے گئے۔ اس وسیع جغرافیائی دائرے کا مقصد مارکیٹ میں دستیاب بوتل بند پانی کے معیار کی مسلسل نگرانی کرنا ہے۔
پی سی آر ڈبلیو آر حکومت کی ہدایت پر تجارتی طور پر دستیاب بوتل بند پانی کی سہ ماہی نگرانی کرتا ہے اور نتائج عوام کے لیے جاری کرتا ہے۔ ادارے نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ خریداری سے پہلے تازہ رپورٹ سے برانڈ کی موجودہ حیثیت چیک کریں، کیونکہ کسی برانڈ کے ایک سہ ماہی میں نتائج اگلی مدت کے نتائج سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
