اسلام آباد: وفاقی حکومت کے پیٹرولیم قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت 28 اکتوبر کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 19 پیسے فی لیٹر کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 25 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ بزنس ریکارڈر، جیو نیوز اور پاکستان ٹوڈے کی رپورٹس کے مطابق نئی ایکس ڈپو قیمتیں پیٹرول کے لیے 376 روپے 6 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے لیے 398 روپے 7 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئیں۔
اس سے قبل پیٹرول 379 روپے 25 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 395 روپے 82 پیسے فی لیٹر تھا۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق اوگرا نے وفاقی حکومت کے منظور کردہ پیٹرولیم پرائسنگ میکانزم کے تحت عالمی مارکیٹ، پلاٹس ریٹس، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں کا تعین کیا۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق پیٹرول کی مقامی قیمت کم رکھنے کے لیے کسٹم ڈیوٹی میں 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی اور اسے 26 روپے 27 پیسے سے گھٹا کر 20 روپے 56 پیسے فی لیٹر کیا گیا۔ یہ اقدام اس لیے اہم ہے کہ عالمی سطح پر ریفائنڈ پیٹرول کا بینچ مارک گزشتہ دن کے مقابلے میں بڑھا تھا۔ رپورٹ کے مطابق پیٹرول کا عالمی بینچ مارک 118.41 ڈالر سے بڑھ کر 120.21 ڈالر فی بیرل ہوا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کا بینچ مارک 110.58 ڈالر سے بڑھ کر 113.13 ڈالر فی بیرل پہنچا۔
حکومتی لیویز اور مقررہ منافع کے بعض اجزا میں تبدیلی نہیں کی گئی۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر پیٹرولیم لیوی 80 روپے فی لیٹر اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی 5 روپے فی لیٹر برقرار ہے۔ ڈیلرز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مقررہ مارجن بھی اپنی موجودہ سطح پر برقرار رکھے گئے ہیں۔
پاکستان درآمدی توانائی پر نمایاں انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں کے ساتھ شپنگ اور خطے کی جغرافیائی سیاسی صورتحال مقامی ایندھن کی لاگت پر تیزی سے اثر ڈال سکتی ہے۔ پیٹرول کی کمی نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کے لیے محدود ریلیف فراہم کرتی ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ مال برداری، پبلک ٹرانسپورٹ اور زرعی سرگرمیوں کی لاگت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ تاہم کسی ممکنہ کرایہ یا اشیائے ضروریہ کی قیمت میں اضافے کا حجم مارکیٹ کے عملی ردعمل پر منحصر ہوگا۔
حکومت نے حالیہ مہینوں میں عالمی منڈی کی غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے دوران ایندھن کی قیمتوں کے جائزے کا دورانیہ مختصر کیا ہے۔ تازہ نرخ اسی نئے انتظام کے تحت جاری کیے گئے ہیں۔ صارفین کے لیے اہم نکتہ یہ ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی سمت اس بار مختلف رہی: پیٹرول سستا ہوا جبکہ ڈیزل مہنگا ہوا۔
