اسلام آباد: عالمی بینک نے پاکستان کے لیے مجوزہ 600 ملین ڈالر کے فنانسنگ پروگرام کو گندم اور چینی کی تجارت اور مارکیٹ انتظام سے متعلق اصلاحات کے ساتھ منسلک کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق پروگرام کا مقصد زرعی اجناس کی منڈی میں پالیسی کی غیر یقینی صورتحال کم کرنا اور درآمد، برآمد اور سرکاری مداخلت کے قواعد کو زیادہ شفاف اور قابل پیش گوئی بنانا ہے۔

پاکستان میں گندم اور چینی کی منڈیاں طویل عرصے سے سرکاری خریداری، امدادی قیمتوں، درآمدی و برآمدی اجازت، ذخائر اور سبسڈی سے متعلق فیصلوں سے متاثر ہوتی رہی ہیں۔ عالمی بینک کی مجوزہ اصلاحات کا تعلق اسی پالیسی ڈھانچے سے ہے تاکہ نجی شعبے کو قیمتوں اور تجارت کے بارے میں نسبتاً واضح قواعد میسر آئیں اور اچانک انتظامی فیصلوں کے باعث پیدا ہونے والے نقصانات محدود کیے جا سکیں۔

رپورٹ کے مطابق 600 ملین ڈالر کی فنانسنگ ابھی مجوزہ پروگرام اور اصلاحاتی شرائط کے عمل سے منسلک ہے، اس لیے اسے فوری طور پر پاکستان کو جاری شدہ رقم نہیں سمجھا جا سکتا۔ عالمی بینک کے ترقیاتی پالیسی پروگرام عموماً مخصوص پالیسی اقدامات، قانونی یا انتظامی تبدیلیوں اور متعلقہ اداروں کی پیش رفت کے جائزے کے بعد منظوری اور اجرا کے مراحل سے گزرتے ہیں۔

گندم کے شعبے میں حکومت کی خریداری اور ذخیرہ پالیسی کا براہ راست تعلق کسانوں، فلور ملز، صارفین اور صوبائی مالیات سے ہے۔ اسی طرح چینی کی درآمد اور برآمد کے فیصلے مقامی قیمت، گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگی اور شوگر ملز کے ذخائر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی تجارتی اصلاح میں غذائی تحفظ اور صارف قیمتوں کے ساتھ مارکیٹ مسابقت کے تقاضوں میں توازن اہم ہوگا۔

مجوزہ پروگرام پاکستان کے لیے بیرونی مالی معاونت کے ساتھ ساختی اصلاحات کو جوڑنے کی ایک اور مثال ہے۔ حتمی فنانسنگ کا انحصار حکومت اور عالمی بینک کے درمیان طے ہونے والے اقدامات، ان کی تکمیل اور بینک کی باضابطہ منظوری پر ہوگا۔ رپورٹ میں سامنے آنے والی 600 ملین ڈالر کی رقم کو اسی تناظر میں مشروط فنانسنگ سمجھنا چاہیے، نہ کہ بلاشرط قرض یا پہلے سے موصول شدہ رقم۔ اصلاحات کی حتمی فہرست اور نفاذ کی ٹائم لائن متعلقہ سرکاری اور عالمی بینک دستاویزات کے بعد مکمل طور پر واضح ہوگی۔