اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کمپنیوں کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کراتے وقت مالیاتی گوشوارے فراہم کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کی 28 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد کارپوریٹ فائلنگ میں فراہم کردہ آمدن، اخراجات، اثاثوں، واجبات اور دوسرے مالی اعداد و شمار کو زیادہ مؤثر انداز میں جانچنے کے لیے دستاویزی بنیاد مضبوط بنانا ہے۔
کارپوریٹ ٹیکس دہندگان پہلے ہی مختلف قانونی ریکارڈ رکھنے اور ریٹرنز کے ذریعے مالی معلومات فراہم کرنے کے پابند ہوتے ہیں، تاہم مالیاتی گوشواروں کو ریٹرن کے ساتھ لازمی طور پر منسلک کرنے سے ایف بی آر کے پاس کمپنی کے رپورٹ کردہ ٹیکس ڈیٹا اور اس کے اکاؤنٹنگ ریکارڈ کا تقابلی جائزہ لینے کی اضافی سہولت ہوگی۔ اس سے ممکنہ تضادات، غیر معمولی دعوؤں یا کم ظاہر کی گئی قابل ٹیکس آمدن کی شناخت میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ تبدیلی ایف بی آر کی ٹیکس نظام کو ڈیجیٹل بنانے اور دستاویزی معیشت کا دائرہ بڑھانے کی وسیع کوششوں کا حصہ ہے۔ آئی آر آئی ایس پورٹل کے ذریعے ریٹرنز اور متعلقہ معلومات جمع ہونے کے باعث ٹیکس حکام ڈیٹا اینالیٹکس اور خودکار رسک پروفائلنگ کو زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔ مالیاتی گوشواروں کی لازمی دستیابی اس ڈیجیٹل جانچ کے لیے مزید ساختی ڈیٹا فراہم کر سکتی ہے۔
کمپنیوں کے لیے اس اقدام کا عملی مطلب یہ ہے کہ سالانہ ٹیکس فائلنگ سے پہلے ان کے اکاؤنٹس اور ریٹرن میں درج اعداد و شمار کے درمیان مطابقت مزید اہم ہو جائے گی۔ بڑے اداروں میں آڈٹ شدہ اکاؤنٹس معمول کا حصہ ہوتے ہیں، جبکہ چھوٹی یا نسبتاً کم پیچیدہ کمپنیوں کو فائلنگ کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے اپنے مالی ریکارڈ کی تیاری اور دستاویزات پر اضافی توجہ دینا پڑ سکتی ہے۔
اس ضابطے کو کسی کمپنی پر اضافی ٹیکس عائد کیے جانے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔ بنیادی تبدیلی رپورٹنگ اور دستاویزات کی ہے؛ کسی مخصوص ٹیکس واجب الادا رقم کا تعین متعلقہ کمپنی کی آمدن، قابل قبول اخراجات، ٹیکس قوانین اور ایف بی آر کی جانچ کے مطابق ہوگا۔ نئی شرط کے نفاذ میں پورٹل کی تکنیکی تیاری اور ٹیکس دہندگان کے لیے واضح ہدایات بھی اہم ہوں گی تاکہ فائلنگ میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا نہ ہوں۔
