لاہور: ماری انرجیز لمیٹڈ اور اینگرو فرٹیلائزرز لمیٹڈ نے کسانوں کی فصلوں کی پیداوار اور آمدن بہتر بنانے کے لیے مشترکہ زرعی اور کمیونٹی پروگرامز پر کام کرنے کا مفاہمتی معاہدہ کیا ہے۔ معاہدے کا مقصد معیاری زرعی ان پٹس تک رسائی، غذائی اجزا کے متوازن استعمال اور مقامی برادریوں کے لیے سماجی ترقی کے منصوبوں کو ایک مشترکہ فریم ورک کے تحت آگے بڑھانا ہے۔
دونوں اداروں کے مطابق تعاون میں ماری انرجیز کے ان علاقوں میں کمیونٹی ڈیولپمنٹ کے تجربے کو اینگرو فرٹیلائزرز کی زرعی مہارت کے ساتھ جوڑا جائے گا جہاں کمپنی کے آپریشنز موجود ہیں۔ فریم ورک کے تحت پروگرامز کی مشترکہ منصوبہ بندی، عمل درآمد اور نتائج کا جائزہ لینے کا طریقہ وضع کیا جائے گا۔
زرعی حصے میں کسانوں کو بہتر معیار کے ان پٹس تک رسائی دینے اور فصلوں کی غذائی ضروریات کے مطابق کھاد اور دیگر غذائی اجزا کے متوازن استعمال سے متعلق آگاہی پر توجہ دی جائے گی۔ پاکستان میں کھاد کے غیر متوازن استعمال، زمین کی زرخیزی اور پیداواری لاگت جیسے مسائل چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کی آمدن پر اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے کمپنیوں کا کہنا ہے کہ معلومات پر مبنی غذائی انتظام پیداوار اور وسائل کے مؤثر استعمال میں مدد دے سکتا ہے۔
مفاہمتی معاہدہ صرف زراعت تک محدود نہیں رکھا گیا۔ مجوزہ مشترکہ سرگرمیوں میں تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کی تعلیم، فنی تربیت، نوجوانوں کی روزگار کے لیے تیاری، صحت اور ماحولیاتی پائیداری کے پروگرام بھی شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں کی مخصوص جغرافیائی حدود، بجٹ اور مستفید ہونے والے افراد کی تعداد ہر منصوبے کی الگ منصوبہ بندی کے دوران طے ہونے کی توقع ہے۔
یہ مفاہمتی یادداشت ایک تعاون کا فریم ورک ہے اور اسے کسی مخصوص پیداوار یا آمدن میں یقینی اضافے کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔ عملی نتائج اس بات پر منحصر ہوں گے کہ دونوں کمپنیاں کتنے علاقوں میں پروگرام شروع کرتی ہیں، کسانوں کی شرکت کس سطح پر رہتی ہے اور زرعی سفارشات مقامی زمین، پانی اور فصلوں کی ضروریات کے مطابق کس حد تک اپنائی جاتی ہیں۔ کمپنیوں نے کہا ہے کہ شراکت داری کے ذریعے زرعی معاش اور مقامی کمیونٹی کی طویل مدتی ترقی کو بیک وقت آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔
