اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی ہفتے کی آخری قیمت نظرثانی میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل پانچویں بار اضافہ کردیا ہے۔ وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول 5 روپے 2 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 5 روپے 28 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا ہے۔

نئی قیمتیں ہفتہ 12 ستمبر سے پیر 14 ستمبر 2026 تک نافذ رہیں گی۔ اضافے کے بعد موٹر اسپرٹ، یعنی پیٹرول، کی ایکس ڈپو قیمت 370.80 روپے سے بڑھ کر 375.82 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 398.04 روپے سے بڑھا کر 403.32 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی، جس سے ڈیزل 400 روپے فی لیٹر کی سطح سے اوپر چلا گیا ہے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل پانچویں قیمت نظرثانی ہے جس میں اضافہ کیا گیا۔ گزشتہ پانچ دنوں کے دوران پیٹرول مجموعی طور پر 29.95 روپے اور ڈیزل 25.27 روپے فی لیٹر مہنگا ہوچکا ہے۔ اس سے ایک روز قبل حکومت نے پیٹرول 3.05 روپے اور ڈیزل 5.37 روپے فی لیٹر بڑھایا تھا۔

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے حکومت کے موجودہ قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت ایکس ڈپو نرخوں پر نظرثانی کی۔ حکومت حالیہ عرصے میں بین الاقوامی تیل کی منڈی اور دیگر لاگتی عوامل کے مطابق ایندھن کے نرخ زیادہ کثرت سے تبدیل کر رہی ہے۔ تازہ قیمتیں تین دن کے لیے برقرار رہیں گی، جس کے بعد اگلی نظرثانی متوقع ہوگی۔

عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں جمعہ کو کچھ نیچے آئیں، تاہم مشرق وسطیٰ کے بحری راستوں میں حملوں اور سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کے باعث ہفتہ وار بنیاد پر تیل نمایاں طور پر مہنگا رہا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق جمعہ کو برینٹ خام تیل تقریباً 105 ڈالر فی بیرل کی سطح پر تھا، جبکہ امریکی ڈیزل قیمتوں میں بھی شدید دباؤ دیکھا گیا۔

پاکستان درآمدی ایندھن پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں، شپنگ لاگت، شرح مبادلہ اور سرکاری محصولات میں تبدیلی مقامی نرخوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔ مسلسل اضافے سے ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری، مال برداری اور بجلی پیدا کرنے کے بعض اخراجات بڑھنے کا امکان ہوتا ہے، تاہم تازہ نوٹیفکیشن نے صرف نئی سرکاری قیمتوں اور ان کے نفاذ کی مدت کی تصدیق کی ہے؛ مستقبل کی قیمتوں کا انحصار اگلی سرکاری نظرثانی پر ہوگا۔