اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی یومیہ قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت 3 روپے 40 پیسے فی لیٹر بڑھا کر 367 روپے 75 پیسے مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 6 روپے 72 پیسے مہنگا ہو کر 392 روپے 67 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ نئی قیمتیں جمعرات 10 ستمبر سے نافذ ہوں گی۔

پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تازہ نظرثانی عالمی تیل منڈی میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے ماحول میں کی گئی ہے۔ حکومت پیٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی مد میں وصول کر رہی ہے۔

پاکستان نے جولائی میں عالمی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ بنیاد پر طے کرنے کا طریقہ اختیار کیا تھا۔ اس کے بعد مقامی قیمتوں میں عالمی خام تیل اور ایندھن کی لاگت کے مطابق زیادہ تیزی سے تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں عالمی تیل کی قیمتوں پر امریکا ایران کشیدگی، خلیجی جہاز رانی کے خطرات اور رسد سے متعلق خدشات کا دباؤ بڑھا ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی موجودہ قیمت اگرچہ اپریل میں ریکارڈ کیے گئے 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کے عروج سے کم ہے، لیکن مسلسل روزانہ اضافے نقل و حمل، زراعت اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ پیٹرول کی قیمت بھی مارچ کے آغاز میں تقریباً 266 روپے فی لیٹر سے بڑھنے کے بعد موجودہ سطح تک پہنچی ہے، جبکہ اپریل میں یہ 458 روپے 41 پیسے تک جا چکی تھی۔

تازہ اضافہ صارفین کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ ایندھن کی قیمتیں ٹرانسپورٹ کرایوں، زرعی مشینری اور سامان کی نقل و حمل کے ذریعے عمومی مہنگائی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ تاہم مستقبل کی قیمتوں کا رخ عالمی منڈی، روپے کی قدر، درآمدی لاگت اور حکومتی ٹیکس پالیسی پر منحصر رہے گا۔ موجودہ نوٹیفکیشن صرف 10 ستمبر سے نافذ نئی فی لیٹر قیمتوں کی تصدیق کرتا ہے۔