اسلام آباد: وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں توانائی کی بلند قیمتوں کے اثرات کے درمیان پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی مقامی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 1.54 روپے اضافے کے بعد نئی قیمت 379.25 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 2.16 روپے مہنگا ہو کر 395.82 روپے فی لیٹر ہوگیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 27 اکتوبر سے کیا گیا ہے۔
تازہ ردوبدل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا کرتا ہے، اس لیے بین الاقوامی قیمتوں اور روپے کی قدر میں تبدیلی مقامی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں منتقل ہو سکتی ہے۔ حکومت نے حالیہ عرصے میں عالمی منڈی کی غیر معمولی صورت حال کے تناظر میں قیمتوں کا جائزہ لیا ہے۔
پیٹرول عام طور پر موٹر سائیکلوں، رکشوں اور نجی گاڑیوں میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل مال برداری، بسوں، زرعی مشینری اور دیگر تجارتی سرگرمیوں میں اہم ایندھن ہے۔ اس وجہ سے دونوں مصنوعات کی قیمت میں اضافہ نقل و حمل اور پیداواری لاگت پر اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم اشیا اور خدمات کی حتمی قیمتوں پر اثر کی مقدار مختلف شعبوں کی لاگت اور مارکیٹ حالات پر منحصر ہوگی۔
قیمتوں میں یہ اضافہ اس وسیع معاشی ماحول کا حصہ ہے جس میں اسٹیٹ بینک نے بھی مہنگائی کے خطرات میں اضافے کی نشاندہی کی ہے۔ عالمی توانائی کی قیمتیں بلند رہنے کی صورت میں پاکستان کے درآمدی بل اور صارف قیمتوں پر مزید دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف عالمی منڈی میں کمی یا جغرافیائی سیاسی تناؤ میں نرمی مقامی قیمتوں کے آئندہ جائزوں میں ریلیف کا امکان پیدا کر سکتی ہے۔
حکومت کی جانب سے اعلان کردہ نئی شرحوں کے بعد صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے ایندھن کی لاگت مزید بڑھ گئی ہے۔ آئندہ قیمتوں کا تعین عالمی تیل کی قیمتوں، شرح مبادلہ اور حکومت کے متعلقہ ٹیکس و لیوی ڈھانچے سمیت متعدد عوامل سے متاثر ہوگا۔

