اسلام آباد: مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران امریکا پاکستانی مصنوعات کی سب سے بڑی برآمدی منڈی برقرار رہا، جبکہ چین اور برطانیہ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے ستمبر کے عرصے میں امریکا کو پاکستان کی برآمدات 1.716 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 1.643 ارب ڈالر کے مقابلے میں 4.44 فیصد زیادہ ہیں۔

چین کو پاکستانی برآمدات 663.567 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ حجم 562.560 ملین ڈالر تھا۔ اس طرح چین کے لیے برآمدات میں 17.95 فیصد اضافہ سامنے آیا۔ برطانیہ تیسری بڑی منڈی رہا جہاں پاکستانی مصنوعات کی برآمدات 612.305 ملین ڈالر رہیں، جو ایک سال قبل 574.171 ملین ڈالر تھیں۔

متحدہ عرب امارات کو برآمدات 572.624 ملین ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 492.167 ملین ڈالر تھیں۔ جرمنی کو برآمدات 389.116 ملین ڈالر ریکارڈ ہوئیں، جو گزشتہ سال کے 446.100 ملین ڈالر سے کم ہیں۔ نیدرلینڈز کو برآمدات 370.005 ملین ڈالر اور اٹلی کو 298.731 ملین ڈالر رہیں۔

اعداد و شمار مختلف منڈیوں میں پاکستانی برآمدات کی غیر یکساں کارکردگی دکھاتے ہیں۔ اسپین کو برآمدات 154.244 ملین ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 383.122 ملین ڈالر تھیں۔ اس کے برعکس سویڈن کو برآمدات 46.259 ملین ڈالر سے بڑھ کر 72.189 ملین ڈالر ہوئیں۔ بنگلہ دیش کو 174.776 ملین ڈالر، فرانس کو 136.030 ملین ڈالر اور بیلجیئم کو 127.431 ملین ڈالر کی برآمدات ریکارڈ کی گئیں۔

سعودی عرب کو پاکستانی برآمدات 168.188 ملین ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال 160.304 ملین ڈالر تھیں، جبکہ ترکیہ کو برآمدات 47.582 ملین ڈالر سے بڑھ کر 57.712 ملین ڈالر ہوئیں۔ یہ اعداد و شمار صرف پہلی سہ ماہی کی تجارتی سمت کی تصویر پیش کرتے ہیں؛ پورے مالی سال کا نتیجہ عالمی طلب، قیمتوں، شرح مبادلہ، پیداواری لاگت اور بڑی برآمدی صنعتوں کی کارکردگی سمیت متعدد عوامل پر منحصر ہوگا۔