اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 72 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق جمعرات 10 ستمبر 2026 سے ہو گیا ہے۔

قیمتوں میں تازہ ردوبدل کے بعد پٹرول کی فی لیٹر قیمت 367 روپے 75 پیسے مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 392 روپے 67 پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی منڈی میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں بلند سطح پر ہیں اور پاکستان میں ایندھن کی لاگت پہلے ہی صارفین، ٹرانسپورٹ اور کاروباری شعبے پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق حکومت پٹرول پر مجموعی طور پر تقریباً 114 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے، جبکہ ڈیزل پر یہ رقم تقریباً 100 روپے فی لیٹر ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ نرخ نامے میں ان محصولات کے ڈھانچے میں کسی نئی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت رواں سال 3 اپریل کو 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح تک پہنچی تھی۔ اسی طرح پٹرول کی قیمت بھی اپریل کے اوائل میں 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک جا چکی تھی۔ بعد کے مہینوں میں نرخوں میں کمی ہوئی، تاہم موجودہ عالمی حالات کے دوران قیمتوں میں دوبارہ اضافے کا رجحان سامنے آیا ہے۔

پٹرول کی قیمت میں اضافہ براہ راست نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور چھوٹی تجارتی سرگرمیوں کے اخراجات کو متاثر کرتا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت مال برداری، بسوں، زرعی مشینری اور صنعتی نقل و حمل کے لیے زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے ڈیزل میں نسبتاً زیادہ اضافہ سامان کی ترسیل اور پیداواری لاگت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم مہنگائی پر حتمی اثر کا تعین آنے والے اعدادوشمار اور کاروباری شعبے کی قیمتوں میں تبدیلی سے ہوگا۔

پٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق فی الحال یہی نرخ نافذ العمل ہیں اور صارفین کو ملک بھر میں نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔