اسلام آباد: حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام کے تحت 29 اکتوبر 2026 کے لیے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 1.85 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 377.91 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 1.75 روپے بڑھا کر 399.82 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق حکومت پیٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں عالمی منڈی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال کے باعث پاکستان میں ایندھن کے نرخوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 3 اپریل کو 520.35 روپے فی لیٹر کی بلند سطح تک پہنچی تھی، جبکہ پیٹرول اسی عرصے میں 458.41 روپے فی لیٹر تک گیا تھا۔
حکومت نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ بین الاقوامی منڈی میں تیز تبدیلیوں کے پیش نظر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کی ذمہ داری دی جائے گی۔ اس سے قبل مارچ سے ہفتہ وار بنیاد پر قیمتیں تبدیل کی جا رہی تھیں۔ حکام کا مؤقف رہا ہے کہ عالمی قیمتوں اور سپلائی کے حالات کو مقامی نرخوں میں زیادہ تیزی سے منتقل کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیا۔
پیٹرول کی قیمت میں تبدیلی کا براہ راست اثر موٹر سائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والے صارفین پر پڑتا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل مال بردار اور مسافر ٹرانسپورٹ، بڑے جنریٹرز اور بعض بجلی گھروں میں استعمال ہونے کے باعث نقل و حمل اور کاروباری لاگت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی پس منظر میں جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی میں ریلیف کا مطالبہ کیا ہے اور حکومت کے ساتھ ایک مشترکہ کمیٹی بنانے پر اتفاق بھی ہوا ہے جو جاری ایندھن ریلیف اسکیم کے دائرہ کار کا جائزہ لے گی۔
حکومت نے عالمی تیل کی بلند قیمتوں کے اثرات محدود کرنے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات بھی دوبارہ نافذ کیے ہیں، جن میں بازاروں کے اوقات اور سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے استعمال سے متعلق پابندیاں شامل ہیں۔ نئی قیمتیں 29 اکتوبر کے لیے نافذ ہوں گی اور روزانہ قیمتوں کے موجودہ نظام کے تحت اگلی نظرثانی بین الاقوامی مارکیٹ کی صورت حال کے مطابق ہو سکتی ہے۔

