اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نئی نظرثانی کرتے ہوئے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں مہنگے کر دیے ہیں۔ سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان نے وزارتِ توانائی کے جاری کردہ اعلامیے کے حوالے سے بتایا ہے کہ نئی قیمتیں 12 ستمبر 2026 سے آئندہ تین روز کے لیے نافذ کی گئی ہیں۔

اعلامیے کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے 2 پیسے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 375 روپے 82 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 28 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا اور نئی قیمت 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کی زیادہ بار بار نظرثانی کاروباری لاگت، نقل و حمل اور گھریلو بجٹ کے لیے اہم معاملہ بنی ہوئی ہے۔ پٹرول کا استعمال نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور متعدد تجارتی سرگرمیوں میں وسیع پیمانے پر ہوتا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل مال برداری، بسوں، زرعی مشینری اور دیگر بھاری ٹرانسپورٹ میں اہم ایندھن ہے۔ اس لیے دونوں مصنوعات کی قیمت میں تبدیلی کے اثرات معیشت کے مختلف شعبوں تک منتقل ہو سکتے ہیں، تاہم کسی مخصوص مہنگائی اثر کا اندازہ متعلقہ سرکاری اعداد و شمار آنے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔

وزارتِ توانائی کے حوالے سے جاری معلومات میں اس مختصر مدت کی قیمتوں کے تعین کا اعلان کیا گیا ہے۔ دستیاب سرکاری تفصیل میں قیمتوں کے مذکورہ اضافے اور نئی فی لیٹر شرحوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے اب پٹرول 375.82 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 403.32 روپے فی لیٹر کے حساب سے دستیاب ہوگا، جب تک حکومت اگلی قیمت نظرثانی جاری نہیں کرتی۔

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں سرکاری فیصلے کے تحت مقرر ہوتی ہیں اور ان میں تبدیلی کا براہ راست تعلق ٹرانسپورٹ اور توانائی کے اخراجات سے بنتا ہے۔ تازہ فیصلے کے بعد خاص طور پر ڈیزل استعمال کرنے والے مال بردار اور زرعی شعبوں کی لاگت پر نظر رکھی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے اگلی نظرثانی تک یہی اعلان شدہ نرخ قابلِ عمل رہیں گے۔