اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 13 پیسے فی لیٹر کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 74 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق ہفتہ 5 ستمبر سے ہوگا اور یہ پیر 7 ستمبر تک نافذ رہیں گی۔

قیمتوں میں تازہ ردوبدل کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 345 روپے 87 پیسے مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 378 روپے 5 پیسے فی لیٹر دستیاب ہوگا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور حالیہ مہینوں میں ایندھن کی بلند قیمتیں پاکستان میں ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

دستیاب سرکاری اعداد کے مطابق حکومت پیٹرول پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی مد میں مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے۔ اس لیے عالمی خام تیل اور تیار شدہ مصنوعات کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ ٹیکس اور لیوی کا ڈھانچہ بھی صارفین کے لیے حتمی خوردہ قیمت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

حالیہ مہینوں میں دونوں اہم ایندھنوں کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت اپریل کے اوائل میں 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح تک پہنچی تھی، جبکہ مارچ کے آغاز سے پہلے یہ تقریباً 281 روپے فی لیٹر تھی۔ اسی طرح پیٹرول اپریل کے اوائل میں 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک گیا تھا، جبکہ مارچ کے پہلے ہفتے میں اس کی قیمت تقریباً 266 روپے فی لیٹر تھی۔

پیٹرول عام طور پر موٹر سائیکلوں، کاروں اور ہلکی مسافر گاڑیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس میں کمی سے شہری صارفین کو محدود ریلیف مل سکتا ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل مال بردار ٹرانسپورٹ، بسوں اور زرعی سرگرمیوں میں اہم ایندھن ہے، لہٰذا اس کی قیمت میں اضافہ نقل و حمل اور بعض پیداواری اخراجات پر اثر ڈال سکتا ہے۔ نئی قیمتیں مختصر مدت، یعنی 7 ستمبر تک کے لیے مقرر کی گئی ہیں، جس کے بعد حکومت اگلے جائزے میں مزید ردوبدل کر سکتی ہے۔