اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ قیمتوں کے نئے نظام کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 19 پیسے فی لیٹر کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 25 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کے مطابق پیٹرول 376 روپے 6 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 398 روپے 7 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں یہ تبدیلی عالمی منڈی میں خام تیل اور تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، درآمدی لاگت اور متعلقہ حکومتی حساب کتاب کی بنیاد پر کی گئی۔ حکومت نے اکتوبر میں مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لینے کا طریقہ اختیار کیا ہے، جس کے تحت مقامی نرخ نسبتاً مختصر وقفوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا اثر معیشت کے مختلف شعبوں پر الگ انداز میں پڑتا ہے۔ پیٹرول میں کمی سے نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکل استعمال کرنے والے صارفین کو محدود ریلیف مل سکتا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل میں اضافہ مال برداری، زرعی مشینری اور پبلک ٹرانسپورٹ کی لاگت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی شعبے پر حتمی اثر صرف ایک روز کی قیمت تبدیلی سے طے نہیں ہوتا اور عالمی قیمتوں، روپے کی قدر، ٹیکسوں اور آئندہ سرکاری فیصلوں پر بھی منحصر رہتا ہے۔

روزانہ قیمتوں کے نظام کے باعث صارفین اور کاروبار کو پہلے کے پندرہ روزہ نظام کے مقابلے میں زیادہ بار نرخوں میں تبدیلی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس طریقے سے عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کو مقامی قیمتوں میں زیادہ تیزی سے منتقل کیا جا سکتا ہے، جبکہ کاروباری حلقوں کے لیے قیمتوں میں بار بار تبدیلی لاگت اور منصوبہ بندی کے حوالے سے نئی مشکلات بھی پیدا کر سکتی ہے۔

تازہ نوٹیفکیشن میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخ مختلف سمتوں میں گئے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں مصنوعات کی بین الاقوامی قیمت، پریمیم اور مقامی لاگت یکساں نہیں ہوتی۔ صارفین کے لیے عملی طور پر نافذ قیمت وہی ہوگی جو حکومت کے تازہ سرکاری اعلان کے مطابق متعلقہ تاریخ کے لیے مقرر کی گئی ہے۔