اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 93 پیسے فی لیٹر کمی کرتے ہوئے نئی قیمت 386 روپے 30 پیسے فی لیٹر مقرر کردی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمت 17 اکتوبر سے 19 اکتوبر 2026 تک نافذ رہے گی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اس مرتبہ کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اسے 396 روپے 96 پیسے فی لیٹر برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے روزانہ جائزے کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔ ایک روز قبل بھی پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 63 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی تھی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 31 پیسے بڑھائی گئی تھی۔ تازہ نوٹیفکیشن کے بعد پیٹرول کی قیمت مزید نیچے آئی ہے، تاہم ڈیزل کی قیمت بدستور بلند سطح پر موجود ہے۔
حکومت نے جولائی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے جائزے کا نیا طریقہ متعارف کرایا تھا، جس کے تحت پہلے رائج ہفتہ وار نظام کی جگہ زیادہ مختصر وقفوں میں قیمتوں کا تعین کیا جا رہا ہے۔ اس پالیسی کا پس منظر عالمی خام تیل کی قیمتوں میں تیز اتار چڑھاؤ، مشرق وسطیٰ میں تنازع اور اہم بحری راستوں پر رسد سے متعلق خدشات ہیں۔ پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں، مال برداری کے اخراجات اور سپلائی میں رکاوٹوں کا اثر مقامی نرخوں پر نسبتاً تیزی سے منتقل ہوتا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں ایندھن کی بلند قیمتوں کے باعث حکومت نے توانائی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات بھی کیے ہیں۔ ستمبر میں کم آمدنی والے موٹر سائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑی استعمال کرنے والوں کے لیے پیٹرول پر مخصوص ریلیف اسکیم کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ کاروباری اوقات محدود کرنے سمیت بعض انتظامی اقدامات متعارف کرائے گئے تاکہ ایندھن کی کھپت کم کی جا سکے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اب بھی غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں تنازع، روسی ڈیزل کی دستیابی اور آبنائے ہرمز و بحیرہ احمر جیسے اہم تجارتی راستوں سے متعلق خطرات عالمی سپلائی اور قیمتوں کے لیے اہم عوامل ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان میں صارفین کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ مختصر مدت میں بار بار تبدیل ہونے کا امکان برقرار ہے۔ تازہ کمی سے پیٹرول استعمال کرنے والے صارفین کو محدود ریلیف ملے گا، جبکہ ٹرانسپورٹ اور مال برداری میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت برقرار رہنے سے اس شعبے کی لاگت میں فوری کمی نہیں آئے گی۔
