کراچی: پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے ملک کی آئل ریفائنریز کے مالی معاملات، پیداواری لاگت اور قیمتوں کے نظام کا فوری، آزاد اور شفاف فرانزک آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ تفصیلی آڈٹ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 40 سے 50 روپے فی لیٹر تک کمی کی گنجائش سامنے آ سکتی ہے۔ یہ رقم ڈیلرز کا دعویٰ ہے، حکومت کی جانب سے اعلان کردہ یا منظور شدہ قیمت میں کمی نہیں۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق پی پی ڈی اے کے چیئرمین ملک خدا بخش اور دیگر عہدیداروں نے کہا کہ ریفائنری شعبے کے حالیہ منافع نے قیمتوں اور مارجنز کے بارے میں سوالات پیدا کیے ہیں۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی، یعنی جولائی سے ستمبر، میں ریفائنری شعبے کا مجموعی منافع 32.2 ارب روپے رہا۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ تقریباً 1.6 ارب روپے اور اس سے پچھلی سہ ماہی میں 1.1 ارب روپے تھا۔

رپورٹ میں منافع کے اس نمایاں اضافے کو عالمی سطح پر بلند گروس ریفائننگ مارجنز سے جوڑا گیا، جو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور تیل کی منڈی میں تبدیلیوں کے دوران بڑھے۔ ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ ایسے حالات میں حکومت کو ریفائنریز کی خام تیل خرید، پیداواری اخراجات، مالی لاگت، آمدنی اور تیار مصنوعات کی قیمتوں کا آزادانہ جائزہ لینا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ صارفین پر کتنا بوجھ منتقل کیا جا رہا ہے۔

پی پی ڈی اے نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق پالیسی سازی میں ڈیلرز کو مشاورتی عمل کا حصہ بنایا جائے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق صرف ریفائنریز یا دیگر اداروں سے مشاورت کافی نہیں اور ریٹیل سطح پر کام کرنے والے ڈیلرز کے تجربے کو بھی پالیسی میں شامل کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب ریفائنری شعبہ اپنی مالی پوزیشن اور قیمتوں کے موجودہ فارمولے کے بارے میں مختلف تحفظات ظاہر کرتا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں بعض ریفائنریز نے حکومتی قیمت سازی اور لیوی کے انتظام سے اپنے منصوبوں اور اپ گریڈز پر دباؤ کی شکایت بھی کی ہے۔ اس لیے 40 سے 50 روپے فی لیٹر ممکنہ کمی کو کسی ثابت شدہ مالی نتیجے کے بجائے ڈیلرز کے مطالبے اور تخمینے کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔

حکومت نے اس مطالبے کی بنیاد پر کسی فرانزک آڈٹ یا اضافی قیمت کمی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ اگر آڈٹ منظور ہوتا ہے تو اس کے نتائج ہی یہ واضح کر سکیں گے کہ ریفائنری مارجنز، ٹیکس، لیویز، درآمدی لاگت اور دیگر اجزا میں صارفین کے لیے حقیقی طور پر کتنی گنجائش موجود ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت پی پی ڈی اے کا آڈٹ کا مطالبہ اور ریفائنری شعبے کے رپورٹ شدہ منافع میں بڑا اضافہ ہے۔