پشاور ہائیکورٹ میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور بعض علاقوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر پیش رفت ہوئی ہے، جہاں ایڈووکیٹ جنرل آفس نے گورنر، چیف سیکرٹری، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے سیکرٹری سمیت متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹس اور جواب طلب کیے ہیں۔ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 7 نومبر تک گریڈ 17 یا اس سے اوپر کے افسر کے ذریعے اپنا مؤقف عدالت کے سامنے پیش کریں۔
درخواستیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور دیگر افراد کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ صوبے کے بعض حصوں میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں ہوا اور وفاقی حکومت نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا۔ یہ الزامات درخواست گزاروں کے قانونی مؤقف کا حصہ ہیں؛ عدالت نے ابھی ان دعوؤں کے درست یا غلط ہونے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کی انتظامی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی تھی، اس لیے غیر معمولی آئینی اقدامات کی ضرورت ثابت نہیں ہوتی۔ درخواست گزاروں نے یہ بھی استدلال کیا ہے کہ گورنر راج صرف مخصوص اور غیر معمولی حالات میں نافذ کیا جا سکتا ہے، جبکہ فوج کو سول انتظامیہ کی مدد کے لیے بلانے سے متعلق آئین کے آرٹیکل 245 کے استعمال پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔
مقدمے میں صوبائی اسمبلی کے اسپیکر سے جواب طلب کیے جانے کی عملی صورت حال بھی توجہ کا مرکز ہے، کیونکہ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اسپیکر اس وقت حفاظتی تحویل میں ہیں۔ اس صورت حال سے ایڈووکیٹ جنرل آفس کو آگاہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل عدالت وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل اور دیگر فریقوں کو بھی متعلقہ درخواستوں پر نوٹس جاری کر چکی ہے۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ سیاسی اور آئینی تنازع کا موضوع بنا ہوا ہے۔ درخواست گزار ان اقدامات کو صوبائی خودمختاری اور منتخب حکومت کے اختیارات سے جوڑتے ہیں، جبکہ حکومتی فیصلوں کا پس منظر امن و امان اور سکیورٹی کی صورت حال بتایا گیا ہے۔ آئندہ سماعتوں میں سرکاری جواب اور متعلقہ دستاویزات سامنے آنے کے بعد عدالت کے لیے یہ طے کرنا ممکن ہوگا کہ آیا آئینی شرائط اور طریقۂ کار کی مکمل پابندی کی گئی تھی یا نہیں۔
