پشاور ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں خیبر پختونخوا کی جیلوں میں قیدیوں کے لیے بروقت اور موزوں طبی سہولتیں یقینی بنانے، تمام مرکزی اور ضلعی جیلوں کا آزاد طبی آڈٹ کرانے اور سنگین یا ہنگامی مریضوں کے لیے باقاعدہ ریفرل نظام وضع کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ ڈان کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق درخواست سینئر وکیل شبیر حسین گیگیانی نے دائر کی۔ عدالت نے ابھی درخواست کے مندرجات پر کوئی حتمی فیصلہ یا حکم جاری نہیں کیا۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبے کی جیلوں میں زیر حراست ہر شخص آئین کے تحت بروقت، مناسب اور طبی ضرورت کے مطابق علاج کا حق رکھتا ہے۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 9 میں دیے گئے حقِ زندگی اور آرٹیکل 14 کے تحت انسانی وقار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قید سے کسی شخص کے بنیادی انسانی حقوق مکمل طور پر ختم نہیں ہوجاتے، جبکہ زیر حراست افراد اپنی صحت اور حفاظت کے لیے بڑی حد تک ریاستی اداروں پر منحصر ہوتے ہیں۔

درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ پشاور سینٹرل جیل میں حالیہ عرصے کے دوران فضل الرحمٰن اور ظاہر شاہ سمیت دو قیدیوں کی مبینہ طور پر اس وقت موت ہوئی جب شدید بیماری کے باوجود انہیں بروقت اور کافی علاج یا ضروری خدمات نہ مل سکیں۔ یہ دعوے درخواست گزار کے مؤقف کا حصہ ہیں اور کسی عدالتی انکوائری کا ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔ متعلقہ حکام کا تفصیلی جواب بھی شائع شدہ رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔

وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ صوبائی حکومت اور متعلقہ محکموں کو تمام مرکزی و ضلعی جیلوں کا جامع اور آزاد طبی آڈٹ کرانے کا حکم دیا جائے۔ مجوزہ آڈٹ میں طبی عملے کی تعداد، ادویات، لیبارٹری سہولت، تشخیصی آلات، ہنگامی انتظامات، ماہر ڈاکٹروں کی دستیابی، ایمبولینس سروس اور مریضوں کو جیل سے باہر ہسپتال بھیجنے کے طریقۂ کار کا جائزہ شامل کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

درخواست میں سنگین اور ہنگامی طبی معاملات کے لیے ایک جامع ’’پرزن میڈیکل ریفرل پروٹوکول‘‘ تیار اور نوٹیفائی کرنے کی استدعا بھی شامل ہے۔ درخواست گزار چاہتا ہے کہ جہاں ممکن ہو قریب ترین سرکاری تدریسی ہسپتال، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال یا دیگر سرکاری طبی ادارے میں قیدیوں کے لیے محفوظ وارڈ قائم کیے جائیں۔ ساتھ ہی باہر کے ہسپتال میں داخل قیدیوں کو مناسب پولیس یا جیل سکیورٹی دی جائے تاکہ حفاظتی خدشات زندگی بچانے والے علاج میں انکار یا تاخیر کی وجہ نہ بنیں۔

درخواست میں قریبی سرکاری یا تدریسی ہسپتالوں کے ماہر ڈاکٹروں کا باقاعدہ روسٹر بنانے کی بھی گزارش کی گئی ہے۔ اس میں گردوں، دل، پھیپھڑوں، سرطان، نفسیات، متعدی امراض اور سرجری سمیت ضرورت کے مطابق تخصصی خدمات شامل کرنے، سنگین مرض کی تشخیص ہونے والے ہر قیدی کے لیے تحریری علاج منصوبہ بنانے اور معائنہ، دوا، ٹیسٹ، ماہر رائے، ریفرل اور فالو اپ کا ریکارڈ رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

درخواست گزار نے ہر قیدی کا مرکزی طبی ریکارڈ رکھنے، طبی مدد کی ہر درخواست کا وقت اور تاریخ درج کرنے اور ہنگامی درخواست پر بلا تاخیر کارروائی کی استدعا کی۔ انہوں نے بیماری یا مبینہ طبی غفلت کے باعث جیل میں ہونے والی ہر موت کا آزاد طبی جائزہ یا قانونی انکوائری کرانے اور موت کی وجہ، فراہم کردہ علاج، ریفرل کی تاریخ اور ممکنہ انتظامی کوتاہی محفوظ کرنے کی بھی درخواست کی۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت صرف آئینی درخواست کا دائر ہونا اور اس میں مانگی گئی طبی، انتظامی اور ریکارڈ سے متعلق اصلاحات ہیں۔ جیلوں میں سہولتوں کی حقیقی کیفیت، بیان کردہ اموات میں ذمہ داری اور درخواست میں مانگے گئے احکامات کا فیصلہ عدالت متعلقہ محکموں کا جواب اور دستیاب شواہد سننے کے بعد کرے گی۔