پشاور: پشاور ہائی کورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو مختلف اسامیوں پر حتمی تقرری احکامات جاری کرنے سے روک دیا ہے، تاہم ادارے کو جاری بھرتی کا عمل آگے بڑھانے کی اجازت دی گئی ہے۔ ڈان کے مطابق جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل بینچ نے آٹھ کنٹریکٹ ملازمین کی درخواست پر یہ عبوری حکم جاری کیا۔

عدالت نے NCCIA اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرلز کے علاوہ داخلہ، اسٹیبلشمنٹ اور خزانہ ڈویژن کے سیکریٹریز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ نئی بھرتیوں کو حتمی شکل دینے سے پہلے ان کی زیر التوا ریگولرائزیشن درخواستوں پر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جانا چاہیے۔

درخواست گزاروں میں سب انسپکٹر مختار احمد اور سات دیگر ملازمین شامل ہیں۔ ان کے وکیل میاں محمد عمران نے عدالت کو بتایا کہ ملازمین ابتدائی طور پر کنٹریکٹ پر بھرتی ہوئے اور ان کی ملازمت میں وقتاً فوقتاً توسیع ہوتی رہی۔ ان کے مطابق تجربے اور مسلسل خدمات کے باعث ریگولرائزیشن کے معاملات متعلقہ حکام کو بھیجے گئے اور اس مقصد کے لیے سلیکشن کمیٹی کی تشکیل کی کارروائی بھی ہوئی۔

درخواست میں اگست 2026 کے اشتہار کے تحت نئی بھرتیوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر انہی یا متعلقہ آسامیوں پر نئے افراد کی تقرری مکمل کر دی گئی تو موجودہ کنٹریکٹ ملازمین کی ریگولرائزیشن کے زیر التوا دعوے متاثر ہو سکتے ہیں۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کے معاملات طے کیے جائیں اور اس کے بعد ضرورت کے مطابق نئی بھرتیوں کو حتمی شکل دی جائے۔

وکیل نے عدالت میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ NCCIA کی ایک سرکاری مراسلت میں گریڈ ایک سے 14 تک کنٹریکٹ پر کام کرنے والے 216 افسران کی خدمات مستقل کرنے کے لیے محکمانہ سلیکشن کمیٹی قائم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ یہ درخواست گزاروں کا قانونی مؤقف ہے اور اس مرحلے پر عدالت نے ان کے ریگولرائزیشن حق کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

عدالت کا حکم عبوری نوعیت کا ہے: بھرتی کا عمل رک نہیں گیا، صرف حتمی appointment orders جاری کرنے پر پابندی لگائی گئی ہے جب تک مقدمے میں مزید سماعت اور فریقین کے جواب سامنے نہیں آتے۔ اس فرق کی اہمیت اس لیے ہے کہ حکم کو NCCIA کی تمام بھرتیاں منسوخ ہونے یا درخواست گزاروں کی مستقل ملازمت منظور ہونے کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ آئندہ سماعت میں وفاقی حکام کے جواب کے بعد عدالت معاملے کے قانونی اور انتظامی پہلوؤں کا مزید جائزہ لے گی۔