اسلام آباد/پشاور: پاکستان تحریک انصاف نے واضح کیا ہے کہ رکن قومی اسمبلی جنید اکبر بدستور پارٹی کے خیبرپختونخوا چیپٹر کے صدر ہیں، جبکہ ان کی غیر موجودگی میں صوبائی سینئر نائب صدر سینیٹر نورالحق قادری صوبائی کابینہ کے اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے دستخط سے ہفتہ 24 اکتوبر کو جاری نوٹیفکیشن نے صوبائی تنظیم کے حوالے سے حالیہ قیاس آرائیوں کے بعد انتظامی ترتیب واضح کی۔

ڈان کے مطابق جنید اکبر کی موجودہ جگہ معلوم نہیں اور وہ 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سہیل آفریدی اور دیگر افراد کے ساتھ حفاظتی تحویل میں لیے گئے تھے۔ ان کی غیر موجودگی کے دوران یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ صوبائی اسمبلی کے متعدد ارکان سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو قائم مقام صوبائی صدر بنانے کی حمایت کر سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے تازہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ صوبائی تنظیم جنید اکبر کی صدارت میں ہی کام کرتی رہے گی۔ سینیٹر نورالحق قادری، جو صوبائی تنظیم کے سینئر نائب صدر ہیں، جنید اکبر کی غیر موجودگی میں صوبائی کابینہ کے تمام اجلاسوں کی صدارت کریں گے اور پارٹی آئین کے مطابق فرائض انجام دیں گے۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ اگر نورالحق قادری بھی دستیاب نہ ہوں تو خیبرپختونخوا کے سیکریٹری جنرل علی اصغر خان اجلاس بلا اور چلا سکیں گے۔ انہیں صوبائی تنظیم کی مختلف سطحوں اور ونگز کے درمیان انتظام، رابطہ اور نگرانی کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے تاکہ پارٹی پالیسیوں اور فیصلوں پر عملدرآمد جاری رہے۔

پارٹی قیادت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ آئندہ حکم تک خیبرپختونخوا کی صوبائی کابینہ یا تنظیمی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ یہ ہدایت ایسے وقت آئی ہے جب علی امین گنڈاپور اور پارٹی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کے درمیان سوشل میڈیا پر صوبائی قیادت اور پارٹی کے اندر مبینہ اختلافات سے متعلق سخت بیانات سامنے آئے تھے۔

گنڈاپور نے راجا کے بعض الزامات اور زبان پر اعتراض کیا تھا، جبکہ راجا نے ایسے عناصر پر تنقید کی تھی جو ان کے بقول پارٹی قیادت کی منظوری کے بغیر صوبائی صدر تبدیل کرنے کا بیانیہ آگے بڑھا رہے تھے۔ تازہ نوٹیفکیشن اس سیاسی تنازع کے درمیان پارٹی کی رسمی تنظیمی پوزیشن طے کرتا ہے: جنید اکبر صدر رہیں گے، مگر روزمرہ اجلاسوں کی قیادت ان کی عدم موجودگی میں نورالحق قادری کریں گے۔

جنید اکبر کی تحویل یا موجودہ مقام سے متعلق حتمی تفصیلات سرکاری طور پر واضح نہیں کی گئیں، اس لیے ان کے بارے میں غیر مصدقہ دعوؤں کو تصدیق شدہ حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔